Posts

Showing posts from June, 2021

ثریا ‏باجی ‏

ثریا باجی اس کے بہن بھائیوں اور کزنوں میں پہلوٹھی کا بچہ تھیں۔ اس سے کافی بڑی تھیں اس لئے وہ ان کی گود میں کھیلنے والوں میں سے ایک تھا۔ ثریا باجی اس کے بچپن کی دھندلی اور خوشگوار یادوں میں سے ایک تھیں، جیسے کیمرے کی ایجاد کے شروع شروع کی تصاویر ہوں لیکن رنگوں سمیت۔ قرآن پاک اور ثریا باجی لازم و ملزوم تھے۔ وہ قرآن کی حافظہ تھیں اور اس نے ہمیشہ ان کے گھر بچوں کو قرآن پاک پڑھتے دیکھا۔ اس کے ددھیال کے بہت بڑے گاؤں کی قریب قریب ساری بچیاں ثریا باجی کی شاگرد تھیں اکثر ناظرہ اور کچھ حفظِ قرآن کی شاگرد۔ ثریا باجی حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کا نہایت حسِین امتزاج تھیں۔ سرخ و سفید خوبصورت چہرہ اور لمبے سیاہ کالے بال، عقل و دانش کا جاگتا پیکر۔ ان کی شادی کے وقت وہ کچھ بڑا ہوچکا تھا غالباً چوتھی جماعت کا طالب علم. ان کی شادی ایک بڑے زمیندار گھرانے میں طے پائی۔ برات سے ایک رات پہلے ماہر کھانا پکانے والے آچکے تھے اور ساری رات مزے کے پکوان تیار ہوتے ریے۔ کچھ چیزیں تو اس کے لئے بالکل نئی اور حیران کن تھیں، جیسے سلاد میں چقندر اور میٹھے چاولوں میں رس گلے۔ دلہا ایک خوبرو، وجیہ اور پڑھا لکھا جوان تھا۔...

بِلُّو

شروع شروع میں بِلُّو ایک روپے کا مطالبہ کرتا تھا، پھر دو روپے کا نوٹ جاری ہوا تو اس نے مزدوری بڑھا کر دو روپے کردی۔ مگر اب تو گویا حد ہی ہوگئی کہ وہ پانچ روپے سے کم کی طرف دیکھتا تک نہ تھا۔ بِلُّو کے دو ہی شوق تھے، چائے اور پانچ کا نوٹ۔ وہ اکثر سوچتا کہ بِلُّو کا اصلی نام کیا ہوگا۔ پھر اس نے خود ہی اس کا نام بلال رکھ لیا مگر کبھی بھی کسی پر ظاہر نہ کیا۔ اسے اس نام سے اور شاید بِلُّو سے بھی محبت تھی. ایسی محبت جو بچپن کے ہم عمر ساتھیوں سے اس وقت تک رہتی ہے، جب تک انسان کو رنگ روپ، ذات پات، اونچ نیچ اور نفع نقصان کے بھدے عدسوں والی عینک نہیں لگ جاتی۔ تو بِلُّو بچپن سے ان کے گھر آتا تھا، ہفتے میں ایک آدھ بار، چائے پینے اور ایک روپیہ لینے۔ اس کی امی، بِلُّو کو کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے کو دے دیتیں، جو وہ خوشی خوشی کردیتا۔ بِلُّو کو "دورے" پڑتے تھے۔ اکثر اوقات وہ بھلا چنگا ہوتا تھا۔ مگر مہینہ دو مہینے بعد اچانک اس کی گردن کے پٹھے اکڑ جاتے، آنکھیں پیچھے کی طرف مڑ جاتیں اور وہ درخت کے کٹے ہوئے خشک تنے کی طرح، دھڑام سے زمین پر گر جاتا۔ کوئی پاس ہوتا تو سہارا دے کر، پاؤ...

غزل ‏14

آخری سانس تلک رشتہ نبھائے رکھا تیرے زخموں کو کلیجے سے لگائے رکھا   ایک لحظے کو بھی بھولے سے نہ جو یاد آیا  اس نے جیون کو تری یاد بنائے  رکھا اپنے حصے کی خوشی تجھ پہ ہے واری ساری غم تری دین تھے، سو ان کو بچائے رکھا دلِ ویراں کِیا آباد ترے رہنے  کو اور آنکھوں کو تری راہ بچھائے رکھا اور ہونگے وہ کوئی دل جو کہ ظلمت ہونگے  نارِ فرقت نے دیا دل میں جلائے رکھا    ایک ایسا بھی ہے گوشہء تخیل جس کو  تیرے پیکر کے تصور سے سجائے رکھا #حرفِ_راشد  23.06.2021 ‎

تعلق ‏اور سمجھوتے ‏

‏سنا ہے کہ سکندرِ اعظم کسی الجھن کا شکار ہوگیا  اور اس کے تمام  درباری دانا بھی اس کی تشفی نہ کرسکے۔ پھر کسی نے اس کی رعایا میں موجود ایسے فقیر کا ذکر کیا جو ایک جھونپڑی میں اکیلا رہتا تھا اور اسقدر دانا تھا کہ بادشاہ کی الجھن سلجھا سکتا تھا۔  بادشاہ اس سے ملنے گیا تو فقیر ‏سردیوں کی دھوپ سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ بادشاہ نے حسبِ مراتب  گھوڑے پر بیٹھے ہی اس سے دریافت کیا کہ کیا بادشاہ اس کے لئے کچھ کرسکتا ہے۔  فقیر نے بادشاہوں کے انداز سے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ ہاں تم یہ کرسکتے  ہو کہ اپنا گھوڑا یہاں  سے ہٹا لو کیونکہ اس کا سایہ میری دھوپ میں ‏حائل ہے۔  بادشاہ گھوڑے سے اترا اور اس کے سامنے جھک کر کہا کہ دراصل آپ میرے کام آسکتے اور میں اسی لئے حاضر ہوا ہوں۔  وقت گزرنے کے ساتھ انسان ایک ہی واقعہ کو مختلف رنگوں سے دیکھتا ہے۔  آج میں خود کو اس فقیر کی جگہ دیکھ سکتا ہوں۔ لیکن ایسا ہونے میں صرف ایک factor مانع ہے ‏وہ factor میرا لالچ، خوف یا بزدلی نہیں بلکہ صرف اور صرف میرے بیوی بچے اور مجھ سے جڑے رشتے ہیں۔  صرف اسی ایک factor کے ہوتے ہو...

غزل ‏13

درد نظریں چرانے لگے ہیں  خواب سارے ٹھکانے لگے ہیں  اک نظر کے نشانے لگے ہیں  لوگ باتیں بنانے لگے ہیں تیری تصویر کا ورد کرتے  چشمِ دل کو زمانے لگے ہیں  کوئی امید پوری ہوئی ہے   سارے موسم سہانے لگے ہیں   عقل سیلاب  میں بہہ گئی ہے   اور عاشق  ٹھکانے لگے ہیں شعر کی گُل  پٹاری کھلی ہے لفظ خوشبو اڑانے لگے ہیں  بزمِ باطن میں رونق ہوئی ہے  شیر و شہباز آنے لگے ہیں #حرفِ_راشد 16۔06۔2021

غزل ‏12

غزل ہے کون راستہ دیکھے جو بام پر میرا   ہے سائبان سے اوجھل بھی ایک گھر میرا ہاں اجلی صبح  کے جیسی ہے وہ گلی میری  تو چاندنی سا سہانا ہے  اک  نگر میرا  کئی حقیقتوں کے درمیان رہتا ہوں  جو میں اِدھر ہوں تو ہمزاد ہے اُدھر میرا کبھی تو آئینے میں اپنی شکل ہوتی ہے  کبھی کبھار وہ لگتا ہے نقش گر میرا کئی زمانے مِرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں  کسی خیال کا سایہ ہے ہم سفر میرا  مرا نصیب تھا اس وقت اپنے جوبن پر  کہ جس گھڑی  تری دہلیز پر تھا سر میرا  

تلوار ‏

پچھلے ہفتے پیاروں کے ساتھ بہت دفعہ پہلے سے دیکھی ہوئی فلم دیکھنے بیٹھ گیا جو آپ احباب میں سے بھی بہت سوں نے دیکھ رکھی ہوگی۔ دوحصوں میں طویل فلم۔ Kill Bill vol 1 & 2.  پتہ نہیں آپ نے کیا دیکھا، میں نے جو دیکھا وہ میں آپ کو دکھاتا ہوں۔  سب سے پہلے تو بہت سے ‏ویمتی اسباق ملے 1- ہیرا گندی نالی میں گر کےبھی ہیرا رہتا ہے 2- ارادے کی مضبوطی پہاڑ جیسی رکاوٹ بھی عبور کروادیتی ہے 3- انسان زندگی میں آخری موت سے پہلے کئی بار مرتا اور نیا جنم لیتا ہے 4- استاد کامل سے وہی فیض یاب ہوسکتا ہے جو اپنا پچھلا گیان چوکھٹ کے باہر چھوڑ کر‏ آئے اور اپنا آپ استاد کے سپرد کردے 5- ایسے استاد سے سیکھا ہوا زندہ درگور بھی کردیا جائے تو پھر سے پیروں پر مضبوط ہوجائے گا  6- دوست تو دوست، انسان کو دشمن بھی اعلی ظرف اور وضعدار بنانے چاہئیں  7- انسان کا سب سے بڑا دشمن، دوست کے روپ میں ہوتا ہے جس پر فتح پانا ہی فتح مبین ہے ‏اور وہ دوست نما دشمن"نفس" ہے۔  لیکن جس بات نے مجھے اب تک اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے وہ ایک تلوار کا ذکر ہے، فلم کا مرکزی کردار ایک چاپانی ماہر تلوار ساز کے پاس تلوار بنانے کی...

آزادی ‏

‏سنا ہے کہ سکندرِ اعظم کسی الجھن کا شکار ہوگیا  اور اس کے تمام  درباری دانا بھی اس کی تشفی نہ کرسکے۔ پھر کسی نے اس کی رعایا میں موجود ایسے فقیر کا ذکر کیا جو ایک جھونپڑی میں اکیلا رہتا تھا اور اسقدر دانا تھا کہ بادشاہ کی الجھن سلجھا سکتا تھا۔  بادشاہ اس سے ملنے گیا تو فقیر ‏سردیوں کی دھوپ سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ بادشاہ نے حسبِ مراتب  گھوڑے پر بیٹھے ہی اس سے دریافت کیا کہ کیا بادشاہ اس کے لئے کچھ کرسکتا ہے۔  فقیر نے بادشاہوں کے انداز سے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ ہاں تم یہ کرسکتے  ہو کہ اپنا گھوڑا یہاں  سے ہٹا لو کیونکہ اس کا سایہ میری دھوپ میں ‏حائل ہے۔  بادشاہ گھوڑے سے اترا اور اس کے سامنے جھک کر کہا کہ دراصل آپ میرے کام آسکتے اور میں اسی لئے حاضر ہوا ہوں۔  وقت گزرنے کے ساتھ انسان ایک ہی واقعہ کو مختلف رنگوں سے دیکھتا ہے۔  آج میں خود کو اس فقیر کی جگہ دیکھ سکتا ہوں۔ لیکن ایسا ہونے میں صرف ایک factor مانع ہے ‏وہ factor میرا لالچ، خوف یا بزدلی نہیں بلکہ صرف اور صرف میرے بیوی بچے اور مجھ سے جڑے رشتے ہیں۔  صرف اسی ایک factor کے ہوتے ہو...

رباعی ‏

آئے جو دن بھی وہ گھائل جائے  جائے جو شام بھی وہ بوجھل جائے   ہائے ان کی جادو نگاہی کے بغیر  برسوں کی رفتار سے  پل پل جائے #حرفِ_راشد 

غزل ‏11 ‏ ‏ ‏

راستہ ہم قدم نہیں نہیں ہوتا  فاصلہ تجھ سے کم نہیں ہوتا میری  دنیا ہے میرے ہونے سے  میں نہ ہوتا  تو غم نہیں ہوتا  تیری یادوں کو چھوڑ دوں تنہا   مجھ سے ایسا ستم نہیں ہوتا  چار سو روشنی وفا کی  ہے ہے  اجالا  جو کم نہیں ہوتا  یوں تو سب کو ملال ہوتا ہے   ساری آنکھوں میں نم نہیں ہوتا  کئی ایسے بھی زخم ہوتے ہیں  جن کے ہونے کا غم نہیں ہوتا   

غزل ‏10

جو وہ پتھر کا دل پگھل جائے  شاید اپنا بھی دل سنبھل جائے  لَو کے ہوتے میں لَو لگا لو تم  یونہی سوچوں میں دن نہ ڈھل جائے  پھونک کر جان کو محبت میں  کر لو کندن کہ یہ اَچھل جائے  آتا ہر دن لگے تھکا ماندہ  شام بھی   چُور چُور ڈھل جائے  ترے جانے سے ڈوب جائے دل  ترے آتے ہی پھر سنبھل جائے ‎ 

دیس ‏پردیس ‏

جو جس پر گزرتی ہے اس کی شدت کا  احساس و ادراک اس کے علاوہ صرف اس صورتحال سے دوچار ہونے والوں کو ہوتا ہے۔ جیسے خواتین ہی سمجھ سکتی ہیں کہ والدین کے گھر سے رخصت ہوتے وقت ان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح وہ دو  حصوں میں بٹ جاتی ہیں۔  ‏حضرات میں سے پردیسی شاید یہ کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ نوجوانی میں پردیس جاتے وقت اپنے والدین سے مل کر رخصت ہوتے ہوئے انسان دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔  دل ماں کے قدموں سے لپٹ جاتا ہے اور دماغ، جسم کو گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔  خیر یہ سب باتیں تو ضمنی اور فانی ہیں۔   ‏دراصل میں یہ سوچ رہاں ہوں کہ اِس جہان اور اُس جہان میں سےمیکہ یا وطن کونسا ہے اور سسرال یا پردیس کونسا۔  یہ وطن ہے تو انسان روتا ہوا کیوں آتا ہے اور دوسرا جہان وطن ہے تو جاتے ہوئے انسان کو چپ کیوں لگ جاتی ہے اور سب روتے کیوں ہیں؟

غزل ‏9

کئی سچ ہیں ایسے جو میں جانتا ہوں مگر خامشی کو بڑا مانتا ہوں اگرچہ مجھے کچھ نہ اپنی خبر ہے پرائے سبھی لہجے پہچانتا ہوں خیالوں کی سِل پر میں حرفوں کو پیسوں   پھر اس دھول سے  میں سُخن چھانتا ہوں     مرے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے  میں سوغاتِ  حرف و قلم  دان تا ہوں    نئی روز گرتی ہے دیوار ان کی پرانے  روابط کو گردانتا ہوں   میں طے  کر ہی لیتا ہوں مشکل مراحل میں کر کے ہی رہتا ہوں جو  ٹھانتا ہوں

ہاں

اس کی ماں بیمار رہتی تھی ماں تھی ہی اتنی اچھی کہ کوئی بھی اس سے ایک دفعہ مل لیتا تو پھر سدا کے لئے گرویدہ ہوجاتا۔ بیماری ماں سے کیا ملی، بن بلائے مہمان کی طرح، وہیں کی ہو رہی۔ تو ماں اکثر بیمار رہتی تھی۔ جس کی وجہ سے مختلف رنگ، شکل اور بو والی دوائیاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ یہ دوائیوں کی شیشیاں اسے بڑی بھلی معلوم ہوتی تھیں۔ شاید اس لئے کہ ماں کی باقی چیزوں کی طرح، یہ بھی اس سے نسبت و تعلق رکھتی تھیں۔ بیماری کی وجہ سے ماں بہت سی لذیذ چیزوں سے پرہیز کرتی تھی۔ ایک دن وہ مکئی کا بھٹہ مزے سے کھا رہا تھا، جو اس کے نانا اپنی چلم کے لئے انگارے بناتے وقت اسے اور باقی بچوں کو بھون کے دیا کرتے تھے۔ اس کا دل چاہا کہ ماں کو بھی دے۔ مگر ماں اپنی بیماری کی وجہ سے بے زار لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے بھٹہ ماں کی طرف بڑھایا تو وہ جھرجھری لے کر بولی، " پرے ہٹاؤ مجھے نہیں کھانا" وہ ماں کے لہجے سے کچھ نتیجہ اخذ کرکے جانے کیوں بولا، "کیا اس کے کھانے سے آپ مر جائیں گی؟" ماں بولی، "ہاں" یہ "ہاں" اس کے کلیجے میں چاقو کی دھار کی طرح اتری اور اس نے سہم کر بھٹہ یوں پرے پھینک...

غزل ‏7

ہم نے دل کو پگھلا دیکھا سردیوں کی رات میں  اس نے ہم کو روتا پایا رات کے لمحات میں شاذ دیکھا ہے کسی نے اپنے من میں جھانک کر  کہکشائیں ہیں ہزاروں کائناتِ ذات میں  آدمی کو آدمی سے ربط ہے اب خال خال سب محبت ڈھونڈتے ہیں جیب کے آلات میں خوشبوئے شعر و بیاں اور پیار کی جادوگری  سُر بھی اب مفقود ہے جو تھی کبھی نغمات میں مسکراہٹ ہے تری میری مسرت کی وجہ  جب تو مجھ سے ہو خفا، گِھر جاتا ہوں خدشات میں لاکھوں کُتب و مدرسے تو ان گنت  علم و فنون  دَیں کہاں وہ گیان جو، ہے عشق کےصفحات میں    پھول ہیں کانٹے ہوئے، پارہ  قمر کی روشنی ہر شے بے  معنی  ہوئی الفت نہیں جذبات میں نفس دشمن تیرا راشد دنیا ہے اک دھوکا گھر  اس کا روشن  رخ ہے رہبر  ایسے سب  ظلمات میں

غزل 5‏

وہ اک نگاہ جو  سینے کے آر پار ہوئی  اسی نگاہ سے ویرانے میں  بہار ہوئی  کوئی  بھی  سچ  مری ہستی پہ  آشکار نہیں  یہی  حقیقتِ مطلق  ہے آشکار ہوئی کسی  حسِین کے سر پر  کلاہ  کانٹوں کا کوئی  کلی  کسی ظالم  گلے کا ہار ہوئی تھا جس نظر کو  غرور اپنی  پاکبازی پر   تری نگاہ  میں وہ آنکھ داغ دار ہوئی ہزار شُکر کہ  راشد ہے تیرے دَر کا مطیع کروڑوں رحمتیں  دھڑکن ترے  نثار ہوئی

غزل ‏6

ظاہر مرا  ٹھہرا ہوا  اور  دل ہے قیامت اس تن پہ گزر جانے کو مائل ہے قیامت قربت کا یہ عالم ہے بسے سینے میں میرے چھو لینے کی چاہت ہو تو حائل  ہے قیامت کل تک جسے دیکھے ہی سے زخموں کو شفا تھی آنکھیں ہوئیں اس چہرے سے  گھائل، ہے قیامت  ہونگے  پری چہروں  کے لب و رخ کی سجاوٹ  اس چشمِ جگر پاش کا وہ تِل ہے قیامت بدصورتی دنیا کی  ہے  راشد کا نیا  شوق  چُوڑی کوئی  خطرہ  نہ ہی  پائل ہے قیامت

غزل ‏3

خالی گھر بار سے باتیں کیں لگ کے دیوار سے باتیں کیں تیرے چلے جانے کے بعد تیری  گفتار سے باتیں کیں  ہم تیغ زنی کریں لفظوں کی اس نے تلوار سے باتیں کیں   آنکھوں میں اجل کی ڈال آنکھیں  منصور نے  دار سے باتیں کیں سونے کی کرن کے تعاقب میں   رُت کی رفتار سے باتیں کیں  تری اک خاموش جھلک خاطر  ترے پہرے دار سے باتیں کیں  کُچھ جو اِس پار بھی چُپ ہی رہے  کُچھ نے اُس پار سے باتیں کیں  تم نے خوں میرے بھرم کا کیا جب اُس عیّار سے باتیں کیں ہاں اِبنِ خطّاب ؓ  نے بینِ خِطاب  ساریہ سالار سے باتیں کیں 

ابو ‏کی ‏پہلی ‏برسی ‏کے ‏تاثرات

‏آج میرے ابو کو فانی دنیا سے عالم بقا کی طرف پرواز کئے ہوئے پورا ایک سال ہوگیا۔ میری والدہ محترمہ تقریباً تیرہ سال پہلے اپنے اصلی دیس سدھار چکی ہیں۔  عین اس گھڑی جب ایک گہری لحد میں ہم بھائی، اسی جسم پر، جس کے اندر سے ہم نےعدم سے وجود کا سفر طے کیا،  مٹی ڈال  ‏رہے تھے تو انسان کی بے بسی، پراسراریت، نہ خود ناشناسی و ناآگہی،  خوشیوں کے لباس میں غم اور شہنائی کی آواز میں ماتم،  تمام پردے فاش کرکے سامنے آ کھڑے ہوئے۔  اس دن ہر شے کی ناپائیداری اور ہر ذی روح کا عارضی زمینی پڑاو صاف نظر آنے لگا اور دل میں اس بات کا تیر ترازو ہوگیا کہ ‏سب پیارے رشتے بچھڑ جائیں گے۔  جب ماں چلی جاتی ہے تو انسان ہر رشتے میں اسے تلاش کرتا ہے۔ باپ اور بہن بھائیوں میں اس کی خوشبو تو ہوتی ہے لیکن ماں کا دل صرف ماں ہی کی ملکیت ہے اور یہ ترکے میں نہیں چھوڑا جاتا ‏عین ممکن تھا کہ اس حقیقت کی آگاہی کے بعد قلب کبھی بھی حقیقی خوشی کو دوبارہ محسوس نہ کرسکتا لیکن اللہ کی رحمت سے دھیان اس طرف چلاگیا کہ سارا عالم عدم سے  صرف ایک ہی نورانی پیکر صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر وجود میں آیا۔...

موت ‏کی ‏پہلی ‏جھلکی

اس چھوٹے سے بچے کے لئے دکھ تکلیف (روحانی و جسمانی)، بھوک پیاس،بے آرامی، بیماری اور نظر انداز ہونا کوئی نئی باتیں نہیں تھیں۔ البتہ موت کا اسے کوئی تجربہ نہ تھا، (ظاہر ہے) نہ ذاتی اور نہ ہی دیکھا سنا۔ پھر ایک دن ایک کالے رنگ کا زخمی پرندہ اچانک دھڑام سے اس کے کچے گھر کے صحن اور ناپختہ زندگی میں آ ٹپکا۔ اس پرندے کو "چیپُو" پکارا جاتا ہے اس خاص چیپُو کے ایک پر کے نیچے زخم تھا۔ بچے کی ساری ہمدردی، مامتا، رحم اور محبت زخمی پرندے کے پر اور ننھی جان پر مرکوز ہوگئی۔ پھر اچانک گھر میں اس کی امی کی پھوپھو کی موت کی خبر پہنچی۔ اس کا ننھا دل ایک ان دیکھے خوف کی کالی سیاہ، چیپو کے پروں سے بھی کالی، چادر میں ایسے گھِر گیا جیسے چودھویں کا چاند کالے سیاہ بادلوں میں۔ اسے بوڑھی پھوپھو کی موت کا اتنا غم نہ ہوا جتنا اس خبر کے ساتھ آنے والے ان دیکھے اجل کے فرشتے کو چیپو کے آس پاس لُو کے جھونکے کی طرح منڈلاتے سوچ کر۔ سارا گھر اور گھر والے اسے اور چیپو کو اکیلا چھوڑ کر مرگ والے گاوں چلے گئے اور اس کا کچے گھڑے جیسا ناپختہ شعور کئی قسم کے خوف کے بگولوں کے درمیان گھرے تنکے کی طرح ایک دائرے میں چکر ک...