Posts

اقبالِ بے مثال سے ایک ملاقات:

پڑھا ساقی نامہ  جو اقبال کا تو باطن کے قلزم میں طوفاں اُٹھا تصور پہ ہر دم  تصَرُف ہُوا شب و روز پرتوِ اقبال کا  کہا دل نے ملتے ہیں اقبال سے  عطا کوئی قطرہ ہو احوال سے  حِصانِ تخیل، کہ ہیں جس کے پر ہُوا جانبِ گردُوں محوِ سفر   اُڑا اسپِ عرفاں برنگِ براق   زمیں کی کشش سے کیا افتراق اسی عالمِ شوق و وجدان میں  مَیں   پہنچا عدن کے گُلستان میں گیا  اور اقبال سے جا  مِلا  گیا اور جا کر قدم چُھو لیا   وہ اقبال  جو ہے  ہُوا بے مثال وہ اقبال جو ہے  سدا لا زوال وہ اقبال جو ہے ابھی  بھی بلند  ہے بامِ ثریا پہ جس کی  کمند وہ اقبال جس سے  ہے بے گانہ قوم  مگر پھر بھی اس کی ہے  پروانہ قوم  وہ اقبال محفُوظ اوراق میں کہ جیسے ہو محبُوس اوراق میں گیا  کاش ہوتا دِلوں میں اُتر تو ہم آج ہوتے نئی  اوج  پر ہُوا  مل کے خوش وہ حکیمِ اُمم تبسم میں لیکن تھی تاثیرِ غم  ہوا روبرُو مَیں جو بعد از سلام  کہا مَیں نے اونچا ہے تیرا مقام ہیں شرق و غرب اُن کے زیرِ اثر  کہ افکار...

جُگنو

 ہیں میرے دل میں اک آرزو کے ہزار اور بے شمار جگنو  کہ جس پہ قربان سارے موسم، یہ چاند تارے بہار جگنو  مرے تخیل میں آن بیٹھا کسی تصور کا ایک پرتو کسی مصور نے اپنے فن سے دئے ہیں جس میں اتار جگنو اگرچہ دن رات تَن کی پونجی کو دھیرے دھیرے لٹا رہے ہیں  پہ ہر گھڑی میرے حرف موتی دمک رہے جیسے  یار جگنو مِلا ہے مجھ کو کسی سخی سے گیان گہرا دھیان دو چند عطا ہیں مجھ کو کسی ولی سے خیال کے جاندار جگنو  سنو گے تم تو سنائی دیں گے ہاں سُر تمہاری ہی دھڑکنوں کے جھکاؤ سر تو دکھائی دیں گے خود اپنے  اندر ہزار جگنو  مرے شریکِ سفر رہے ہیں  سہانے ساون تو سرد راتیں مری ہتھیلی پہ آج  تک ہیں بہار  شاموں کے چار جگنو  26 جون 2022

لایا ہوں انبار گناہ کے نیچ خطا کا پُتلا ہُوں

 لایا ہوں انبار گناہ کے نیچ خطا کا پُتلا ہُوں تیری رحمت لامتناہی مولا  تیرا بندہ ہُوں لکھتے لکھتے  لکھ جاؤں گا شعر ہزاروں رنگوں کے مِٹتے مِٹتے مِٹ جاؤں گا چونکہ مِٹی گارا ہُوں ہونٹوں پر ہے چُپ کا تالا جِیب لگی ہے تالُو سے من کے اندر شور مچا ہے گو کہنے کو گونگا ہُوں ساقی کا محتاج نہیں ہوں، چشمِ غیر سے کیا پینا تنہائی میں محفل ہوں اور خود  اپنا  مے خانہ ہوں اُن کے دل میں گھور اندھیرا اور مقدر دوزخ ہے آقاﷺ  کے گُستاخوں سے میں دل سے نفرت کرتا ہُوں تن ہے میرا ڈھلتا سایہ عین عصر پر آیا ہے من کا سورج ہر دم جوبن  بالک اور نہ بوڑھا ہُوں محنت کش مزدور پیارے میرے اپنے چہرے ہیں   سارے پیشے میرے اندر میں دہقان قبیلہ ہُوں  21 جولائی 2022

آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا

 آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا جاتے جاتے جان کھپائے یارو میلہ سوچوں  کا  جلتے جلتے جم  جاتا ہے تیکھا  تیل  تخیل کا بجھتے بجھتے بھڑکے پھر سے شعلہ شوخ  خیالوں  کا لکھتے لکھتے لکھ ڈالے ہیں دفتر کتنے شعروں کے  پڑھتے پڑھتے پڑھ  جائے گا طوطا پڑھنے والوں کا ہوتے ہوتے ہو جاتا ہے جیون آخر ہونے کو روتے روتے رک جاتا  ہے پانی روتی  آنکھوں کا جھڑتے جھڑتے جھڑ جاتے ہیں پتّے سارے پت جھڑ میں  پکتے پکتے پک جاتا ہے دھان کسان کے کھیتوں کا سوتے سوتے جا پہنچوں میں جادو نگری خوابوں کی جاگوں تو پھر جاگتا جائے جوکھم جیتی جانوں کا جاتے جاتے لے جاتی ہے ماتا  دھاگا ممتا کا جس کے ساتھ وہ باندھے  رکھتی ناطہ اپنے بچوں کا 20 جولائی 2022

سنیاسی کا سفُوف :

  سنیاسی کا سفُوف : __________________ نانا جی کا دل اب پاکستان اور اپنے نواسوں میں لگ گیا تھا اور وہ اپنی انتھک محنت، بے کراں محبت اور ازلی ایمانداری کے ساتھ زندگی کے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوچکے تھے۔ کردار کے لحاظ سے میں نے ان کا سوا سیر زندگی بھر اور زمانے بھر میں نہ پایا۔ اور جب پایا تو اپنا دل اس درویش کے قدموں میں رکھ دیا اور ہاتھ اس کے حکم پر کسی اور کو سونپ دئے۔ میرے ابّو (عبداللّٰہ) اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ تقسیمِ ہِند کے وقت وہ شیر خوار بچے تھے۔ خاندان کے پسِ ہجرت کے مسائل اور ذمہ داریاں اُن کو وراثت میں عطا ہوئیں۔ ناناجی، دادا جی اور ان کے ننھیال کے قریب قریب تمام افراد ایک نہائت نیک اور صاحبِ شریعت بزرگ عبدالعزیز عرف باباجی رحمتہ اللّٰہ علیہ کے عقیدت مند اور مرید تھے۔ باباجی کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ عبدالرحیم رائے پوری رحمتہ اللّٰہ علیہ کے مرید تھے۔ دادی جی ان کی دل و جان سے عقیدت مند تھیں اور نہایت نیک اور عبادت گزار خاتون۔ میں نے بہت چھوٹی عمر میں ان کو دیکھا اور ان کے تہجد سے لے کر فجر کے معمول کا مشاہدہ کیا۔ ابو ابھی مشکل سے تیرہ برس کے ہوں...

اُلٹے سانپ سپیرے کو :

  نانا جی کے لڑکپن کے زمانے سے پہلے اور بہت بعد میں ہمارے بچپن تک، دیہاتوں اور کھیتوں میں کسانوں کو درپیش سانپوں کی حقیقت، نانا جی کی اب تک کی کہانیوں میں بیان شُدہ رومانوی اور مافوق الفطرت پہلؤں کے برعکس، نہایت کرخت اور بھیانک تھی۔ ہر قسم کے سانپ کو دشمن سمجھا اور دیکھتے ہی مار دیا جاتا تھا۔ سانپوں ہی پر کیا موقوف، بچوں کو پالتو پرندوں اور مفید مویشیوں کے علاوہ ہر قسم کے جانوروں اور حشرات سے خوف زدہ رکھنا اور انہیں تلف کرنے کی تعلیم و ترغیب دینا تمام والدین کے تربیتی سلیبس کا جزوِ لازم تھا۔ مثلاً بچپن میں ہم سب کو یقین تھا کہ کچھوے کے پہلو میں پیدائشی حیاتیاتی درانتی اور جنگلی سؤر کے منہ پر برچھی ہوتی ہے۔ ایک بھِڑ کو مارنے کا ثواب دو نفل ادا کرنے کے برابر ہوتا ہے اور ایک بِچھُو کو مارنے کا چار نفل کے برابر۔ پھوْی (جس گیدڑی یا کُتیا کے نومولود بچے ہوں) شیرنی سے زیادہ تُند خو اور خطرناک ہوجاتی ہے۔ دو منہ والا سانپ بھی ہوتا ہے اور اُڑنے والا بھی۔ اس کے علاوہ خوردنی اشیاء ضائع کرنے کے دنیا اور آخرت میں خطرناک نتائج کا بھی ہم سب کو یقینِ کامل تھا۔ مثلاً کسی بچے سے پسا ہوا نمک ...

خیالات و افکار

  سخن ور کے لئے خیالات و افکار ایسے ہی ہیں جیسے کسی طفل کے لئے تتلیاں، جب بھی کوئی خیال اپنے انوکھے رنگوں سمیت جھلک دکھلاتا ہے تو مفکر و سخن ور کا اندرونی طفل اس کے پیچھے بے اختیار لپکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسمانی نقل و حرکت اگر پوری طرح جامد نہیں ہوتی تو سست ضرور پڑتی ہے۔ اُدھر حقیقت کی دنیا کے اپنے ٹھوس مسائل ہیں جو حاضر دماغی اور جسمانی چستی کے متقاضی ہیں۔ نتیجتاً ، تخلیق کار کو اپنی تخلیقات کی وہ قیمت چکانی پڑتی ہے جس کا ادراک ایک تخلیق کار کے علاوہ شاید ہی کوئی رکھتا ہو۔ "میرے اشعار مرے رتجگوں کی قیمت ہیں مفت پڑھنا بھی جنہیں کوئی گوارا نہ کرے "