Posts

Showing posts from March, 2026

اقبالِ بے مثال سے ایک ملاقات:

پڑھا ساقی نامہ  جو اقبال کا تو باطن کے قلزم میں طوفاں اُٹھا تصور پہ ہر دم  تصَرُف ہُوا شب و روز پرتوِ اقبال کا  کہا دل نے ملتے ہیں اقبال سے  عطا کوئی قطرہ ہو احوال سے  حِصانِ تخیل، کہ ہیں جس کے پر ہُوا جانبِ گردُوں محوِ سفر   اُڑا اسپِ عرفاں برنگِ براق   زمیں کی کشش سے کیا افتراق اسی عالمِ شوق و وجدان میں  مَیں   پہنچا عدن کے گُلستان میں گیا  اور اقبال سے جا  مِلا  گیا اور جا کر قدم چُھو لیا   وہ اقبال  جو ہے  ہُوا بے مثال وہ اقبال جو ہے  سدا لا زوال وہ اقبال جو ہے ابھی  بھی بلند  ہے بامِ ثریا پہ جس کی  کمند وہ اقبال جس سے  ہے بے گانہ قوم  مگر پھر بھی اس کی ہے  پروانہ قوم  وہ اقبال محفُوظ اوراق میں کہ جیسے ہو محبُوس اوراق میں گیا  کاش ہوتا دِلوں میں اُتر تو ہم آج ہوتے نئی  اوج  پر ہُوا  مل کے خوش وہ حکیمِ اُمم تبسم میں لیکن تھی تاثیرِ غم  ہوا روبرُو مَیں جو بعد از سلام  کہا مَیں نے اونچا ہے تیرا مقام ہیں شرق و غرب اُن کے زیرِ اثر  کہ افکار...