Posts

Showing posts from January, 2025

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک  سو راز ہوں، کردیتی ہے مستی کی نظر، چاک برسوں کی ریاضت سے ملِے جُبّہ و دستار  بس عشق کی آمد تھی کہ تھا علم و ہنر چاک انسان کی فطرت میں ہے تخریب کا پہلو  ہو سکتے تو کر دیتا ابھی شمس و قمر چاک  صحرا ہوں کہ گلشن ہوں، وہ باطن میں ہیں یکساں    ملتی ہے وہی شے ، جو کریں ریگ و گہر چاک کمہار کے ہاتھوں سے اخذ کر کے محبت  کوزہ تھا کہ رقصاں رہا قدموں تلے دھر چاک 

رباعی

متاعِ فِکر و فن   افلاک کہ فنکار کے آماج ہوئے  سردار نہ دستار کے محتاج ہوئے  ہم کو بھی عطا سلطنتِ فکر ہوئی  ہم بھی تو ہیں بے تاج، مہاراج ہوئے

کُشتۂِ خاکِ حجاز

Image
الحمدللّٰہ میرا ‏ "نعتیہ و منقبتہ کلام و رباعیات"  ‏کا پہلا مجموعہ شائع ہوچکا ہے   ‏نام کتاب: کُشتۂِ خاکِ حجاز  ‏شاعر: راشد محمود ڈوگر ‏کتاب کے حصول کی تفصیلات درجِ ذیل ہیں: ‏1. شمع بک ایجینسی (یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور) ‏ 03049882233 (92+) ‏2. ڈاکٹر اسد الرحمن (میرپورخاص، سندھ)  ‏ 03017836036 (92+) ‏⁧‫

تعارفِ کتاب

Image
‏جنابِ غالب نے تو فرمایا تھا کہ  ‏“سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری” ‏جہاں تک مجھ خاکسار کا تعلق اور علمِ ناقص ہے، اس کی دھندلی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہُوں کہ میرے پُرکھوں کا پیشہ، سپہ گری، کاشت کاری ، یا تجارت کچھ بھی رہا ہو، شاعری ہرگز نہ تھا۔  ‏گو بچپن ہی سے قلّتِ مال و متاع کے باوجود ، اپنے گھر میں مطالعہ اور علم دوستی کا وفُور پایا۔ اس لئے سکول سے قبل ہی مطالعہ سے آشنائی اور کتابوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو سے دلربائی ہوچکی تھی۔  ‏پھر یہ محبت شاید عشق و جنون میں ڈھل گئی۔ سکول کی پہلی کتاب میری پہلی محبوبہ تھی۔ یُوں زندگی ان گنت محبتوں میں بسر اور بے شمار محبوباؤں کی نذر ہوتی چلی گئی۔   ‏مطالعے کا سلسلہ تو جاری رہا البتہ چالیس سال تک ڈائری، خطوط، سکول و کالج کے نوٹس ، انواع و اقسام کے مُلکی و غیر ملکی درخواستی فارمز اور زوجۂِ محترمہ کی بتائی خریداری کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہ لکھا۔ یکایک زندگی نے عجب کروٹ لی اور خاکسار نے لکھنا شروع کردیا۔ ابتداءً نثر اور پھر نثر چلتے چلتے شعر کا روپ دھار گئی۔ جیسے کوئی بتدریج بچپن سے شباب میں داخل ہوجائے۔  ‏ال...

کاش اتنی سی مجھ میں ہمت ہو

کاش اتنی سی مجھ میں ہمت ہو کہہ سکوں ،  "تم مری محبت ہو" شعر موزوں مرا تبھی ہو گا دونوں مصرعوں میں تیری صورت ہو  مجھ کو تو  تم سے سروکار نہیں  ہاں مرے شعر کی ضرورت ہو   ایک صبح ہو کوئی ایسی بھی  جس سے  ملنے کی ہم میں ہمت ہو  گیلی لکڑی سے آشنائی کیا عشق  وہ ہے کہ جس میں شدت ہو تم سے کتنا عجیب ناطہ ہے   میری کمزوری اور قوت ہو  اب تو اتنی سی آرزو ہے مری سامنے وہ ہوں اور فرصت ہو