Posts

Showing posts from March, 2022

غزل 33

قرطاس پہ کچھ قطرے قلم میرا گرا دے حکمت کے سمندر میں اسے غوطہ خدا دے   کوئی تو ہو رہبر جو مجھے من کا پتہ دے کوئی تو ہو منتر جو مجھے مجھ سے ملا دے  پھونکو نہ مرے راکھ ہوئے جسم میں جاناں ایسا نہ ہو  پوشیدہ  کوئی شعلہ جلا دے دیکھوں عجب و اجنبی دنیاؤں  کو  اکثر جیسے  کوئی خوابیدہ مسافر کو جگا دے جس طور سے  چیونٹی تھی سلیمانؑ سے  بولی   الفاظ کی تُو ایسے ہی دیوار گرا دے اک بار تو دیدار مجھے اپنا عطا کر  پھر میرے گناہوں کی بھلے مجھ کو سزا دے اس بار جو آئے ہو تو پھر لوٹ نہ جانا اس بار کا جانا مری ہستی نہ مٹا دے  

قطعہ

مِصرعے مرے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہیں  جلوے مری آنکھوں سے اٹھکھیلیاں کرتے ہیں  الجھی مری نیندوں سے رہتی ہیں کئی غزلیں فِقرے کئی خوابوں میں آ شوخیاں کرتے ہیں    

رباعی

ہر آن ترا دھیان مجھے رہتا ہے  تُو مان مری جان مجھے رہتا ہے    ہر وقت مری یاد تجھے آتی ہے  اس بات کا عرفان مجھے رہتا ہے

رباعی

اِس بار مری ہار لکھی تھی اُس نے فِقرے کہاں تلوار لکھی تھی اُس نے  شعروں میں نِرا پیار بھرا تھا میں نے  شعلوں بھری گُفتار لکھی تھی اُس نے

رباعی

باطل ہے مقابل؟ رہے بسمِ اللہ   حق قائم و دائم ہے بِإِذْنِ اللہ    ہے خوف کسی کا نہ کوئی حُزن و ملال لا حَوْلَ وَلا قوُّةَ اِلّا بالله 

پنجابی غزل

میلہ ویکھن پاروں سی میں گھر چھڈیا اس میلے نے دھیلے مُل دا کر چھڈیا در در تے او دارُو لبھدا پھردا اے جس مُورکھ نے داتا تیرا دَر چھڈیا  توڑوں توڑ نبھاون میں تے ٹُریا سی اوسے آپنڑے آپ پرایا کر چھڈیا دو یاراں چوں اک دی ہار ضروری سی  یاری توڑ نبھاون کارن ہر چھڈیا   جندڑی یارا اوکھی اے پردیساں دی    دیس نوں چھڈنا سوکھا نئیں سی پر چھڈیا  جانڑ دے وی کہ جانڑی جان یقینی سی عشقے خاطر سوہنی کچا تر چھڈیا ماڑے مُڑ مُڑ ایہو کجھ ای کرنا ایں بُڑ بُڑ کیتی، کر کے ہوکا بھر چھڈیا

شعر

اِک شہر میں رہتا ہوں تو اِک شہر ہے سینے میں  چہرہ رہے اِس شہر میں اور آنکھیں مدینے میں