پیار گزیدہ
تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے کچھ عرصہ میں خصوصا ً پنجابی ثقافت میں رہٹ کی اہمیت وہی ہے جو صدیوں سے پانی اور آبادی کی رہی ہے۔ رہٹ کو پنجابی میں "کُھوہ" کہا جاتا تھا اور عموماً پہچان کے لئے اس زرعی اراضی کے مالک یا مالکان کے نام سے مشہور ہوتا تھا جس میں کھوہ ہوتا تھا، جیسے "دارے کا کھوہ" یا "چٹھوں کا کھوہ" وغیرہ۔ رہٹ چلانے کے لئے عموماً بیل اور کبھی کبھار اونٹ استعمال ہوتے تھے۔ پہیلیاں اور لوک کہانیاں پنجابی ثقافت کا اہم جزو تھیں جو رات کو سونے سے پہلے تھکے ہارے کسانوں کی تفریح کا ذریعہ تھیں۔ ان پہیلیوں اور کہانیوں میں جابجا پنجابی رہن سہن، موسموں کے تغیرات اور کسان کی زندگی میں ان کی اہمیت، استعمال کی اشیاء، شادی و غمی اور دیگر تہواروں کو بیان کرنے والی اصطلاحات اور تفصیلات ملتی تھیں۔ رہٹ کے متعلق ایک پہیلی یوں تھی، "آر ٹاہنگا، پار ٹاہنگا، سَنّ ٹلم ٹلیاں آنڑ کونجاں، دینڑ گیڑے، ندی نہاونڑ چلّیاں" کونجوں سے مراد رہٹ کے وہ ڈول نما برتن ہیں جو ہر چکر کے ساتھ کنویں میں جاکر پانی بھر کر لاتے تھے۔ پنجابی میں انھیں "کھوہ دیاں ٹِنڈاں" کہتے ت...