Posts

ایک شعر

یقینًا گنہ گار شاید ہوں شاعر  مگر سر بہ سر ہوں میں خاکِ مدینہ 

اولین کاوشوں میں سے ایک

التفاتِ دوست ہے جو سب طبق ہیں محوِ رقص ضبط و بندھن کے پڑھے سارے سبق ہیں محوِ رقص رنگیں پیارے حرفوں سے لکھا ہے تیرے حُلیے کو جس کے رعبِ حسن سے لرزاں ورق ہیں محوِ رقص حسن کی بے اعتنائی کا بھرم یوں کھل گیا جو جبینِ ماہ پر اتنے عرق ہیں محوِ رقص چشمِ ظاہر نے تو دیکھا آدمی مسکین سا سر جھکائے بیٹھا ہے اور دل میں برق ہیں محوِ رقص غم نہیں جو ڈھل گیا دن، شب کی آمد کا نہ خوف وہ سحابِ شام بس پہنے شفق ہیں محوِ رقص طعن و تشنیع و ملامت، مدحت و الفت کے پار ماورائے سنگ و گُل مستغرق ہیں محوِ رقص

وجدان

‏ کبھی کبھار مرا وجدانِ بے باک میرے  تنِ ناتواں کی خاک اڑا کے لمحوں میں کئی صدیوں کا سفر کرتا ہوا  ابو ایوب انصاریؓ  کے درخشاں گھر  کی جانب نازاں و خراماں بڑھتی   خوش نصیب قصواء کے  مبارک قدموں میں بچھا کے  جاوداں کر دیتا ہے           

نعتیہ شعر

بِن آپﷺ کے نہیں ہے سہارا میرے حضورﷺ بِن آپﷺ کے نہ کوئی  ہمارا میرے حضورﷺ 

غزل 32

خود اپنا ہوش کنارے پہ دھر کے دیکھا ہے  جنُوں کے بحر میں گہرا اُتر کے دیکھا ہے  ہر ایک بات پہ مرنے کا دعوٰی کرتے ہو  بھلا بتاؤ کبھی تم نے مر کے دیکھا ہے؟   ہوا یقین انھیں حسن کی حقیقت کا جو خود کو آئینے میں بن سنور کے دیکھا ہے   کبھی حقیقتیں بھی ریت کا محل ٹھہریں  کبھی خیال سبھی رنگ بھر کے دیکھا ہے   زمانہ روندتا ہے اپنے پاؤں کے نیچے  تماشا جابجا میں نے ٹھہر کے دیکھا ہے

غزل 31

سُر سے عاری شعر سے بیگانہ ہوں  عقل سے پیدل میں اک دیوانہ ہوں  رات کی تنہائی میں خود ایک بزم  اور بھری محفل میں اک ویرانہ ہوں  شمع جانیں مجھ کوپروانے مگر  جل رہا ہوں شمع کا پروانہ ہوں  متقی سمجھیں مجھے مے خوار ہے  رند دھتکاریں کہ میں فرزانہ ہوں  پکا سچا جانیں ہیں راشد کو سب  کچی پنسل سے لکھا افسانہ ہوں

غزل 30

شام تو اک دھوکا ہے  دن کہیں اور نکلا ہے  چشمِ دل کی پلکوں میں  یادوں کا اشک اٹکا ہے  جتنا برتن خالی ہو  اتنا ہی وہ بجتا ہے   آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں  دل میں جو جو ہوتا ہے   جھٹ بدلتے لوگوں کو  ہم نے اکثر دیکھا ہے   اپنے چہرے دِکھتے ہیں  دنیا اک آئینہ ہے