Posts

رباعیاتِ راشد

  🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 اے یار مرے جلوہ ترا دیکھ لیا بے پردہ یہیں چہرہ ترا دیکھ لیا    تُو خاکی بدن اوڑھ کے بیٹھا ہوا تھا  خاکستری کو چاک کِیا دیکھ لیا 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 کوئی کہاں دیوانوں کی رمزیں سمجھا دیوانہ ہوا آپ انھیں باتیں سمجھا اندھے ہیں یہاں چہرے پہ آنکھوں والے سمجھا تو وہی دل کو جو آنکھیں سمجھا 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 تماشا انسان تماشا ہوا انسانوں کا عبرت ہے، نہیں کھیل یہ نادانوں کا  دیکھیں شب و روز اک دوجے کا انجام سوچیں کہ یہی انت ہے بیگانوں کا 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 روز و شام آئے جو روز بھی وہ گھائل جائے  جائے جو شام بھی وہ بوجھل جائے  ہائے ان کی جادو نگاہی کے بغیر   برسوں کی رفتار سے پل پل جائے  🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 جو ظلم کی رفتار یہیں تھم جائے جو جنگ کی جھنکار کہیں جم جائے چیخ و چنگاڑ جو ہو جائے چُپ تو یہ دنیا امن کی ہو سرگم جائے 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 یہ شش جہات ہیں آئینہ خانہ میری تصویریں خانہ تا خانہ  میرے ہونے سے سارا جادو ہے میرے جانے سے ویرانہ خانہ اور یہ سب جہات ہیں آئینہ ...

حمدیہ و نعتیہ و منقبتیہ رباعیات

 حمدیہ و نعتیہ و منقبتیہ رباعیات  🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 کُل حمد و ثنا تیری تُو رحمان و رحیمﷻ  تُو مالک و مختار ہے اے ذاتِ قدیمﷻ ہم سب کو ہدایت دے تُو سیدھے رستے  وہ راہ کہ جس پر ہیں چلے سارے نعیم  🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 داتاﷻ کے خزانوں میں کمی کوئی نہیں  دوری بہ وسیلہ ءِ نبیﷺ کوئی نہیں  شہ رگ سے بھی نزدیک ہوں اللہ نے کہا دل سے اٹھی رائیگاں گئی کوئی نہیں 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 توحید و رسالت  اللہﷻ و محمدﷺ کے ہیں اسما یکجا  توحید و رسالت کے ہیں اجزا یکجا  دونوں ہی جو باہم ہوں تو کامل ایماں   دو ذاتِ گرامی سرِ کلمہ یکجا اور اللہﷻ و محمدﷺ کے ہیں اسما اکھٹے  توحید و رسالت کے ہیں اجزا اکھٹے   دونوں ہی جو باہم ہوں تو کامل ایمان  دو ذاتِ گرامی سرِ کلمہ اکھٹے  🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 آفاق سے افلاک ہے رفعت انﷺ کی  ہر خَلق ہے پروردہ ءِ رحمتﷺ ان کی  قرآن ثنا خوانِ نبیﷺ ہے راشد  تُجھ سا بد کار اور مدحت انﷺ کی؟ اور آفاق سے افلاک ہے رفعت اُنﷺ کی ! ہر خَلق ہے پروردہ ءِ رحمت اُنﷺ...

غزل 33

قرطاس پہ کچھ قطرے قلم میرا گرا دے حکمت کے سمندر میں اسے غوطہ خدا دے   کوئی تو ہو رہبر جو مجھے من کا پتہ دے کوئی تو ہو منتر جو مجھے مجھ سے ملا دے  پھونکو نہ مرے راکھ ہوئے جسم میں جاناں ایسا نہ ہو  پوشیدہ  کوئی شعلہ جلا دے دیکھوں عجب و اجنبی دنیاؤں  کو  اکثر جیسے  کوئی خوابیدہ مسافر کو جگا دے جس طور سے  چیونٹی تھی سلیمانؑ سے  بولی   الفاظ کی تُو ایسے ہی دیوار گرا دے اک بار تو دیدار مجھے اپنا عطا کر  پھر میرے گناہوں کی بھلے مجھ کو سزا دے اس بار جو آئے ہو تو پھر لوٹ نہ جانا اس بار کا جانا مری ہستی نہ مٹا دے  

قطعہ

مِصرعے مرے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہیں  جلوے مری آنکھوں سے اٹھکھیلیاں کرتے ہیں  الجھی مری نیندوں سے رہتی ہیں کئی غزلیں فِقرے کئی خوابوں میں آ شوخیاں کرتے ہیں    

رباعی

ہر آن ترا دھیان مجھے رہتا ہے  تُو مان مری جان مجھے رہتا ہے    ہر وقت مری یاد تجھے آتی ہے  اس بات کا عرفان مجھے رہتا ہے

رباعی

اِس بار مری ہار لکھی تھی اُس نے فِقرے کہاں تلوار لکھی تھی اُس نے  شعروں میں نِرا پیار بھرا تھا میں نے  شعلوں بھری گُفتار لکھی تھی اُس نے

رباعی

باطل ہے مقابل؟ رہے بسمِ اللہ   حق قائم و دائم ہے بِإِذْنِ اللہ    ہے خوف کسی کا نہ کوئی حُزن و ملال لا حَوْلَ وَلا قوُّةَ اِلّا بالله