Posts

میں ہُوں خاک و خوں سے بُنا گیا، یہ سُنا ہے مَیں ہُوں چُنا گیا

میں ہُوں خاک و خوں سے بُنا گیا، یہ سُنا ہے مَیں ہُوں چُنا گیا میں ہُوں آنسوؤں سے سَنا ہوا، میں ہُوں ٹھوکروں سے دُھنا گیا  میں ہُوں ناز جو نہ سہا گیا، میں ہُوں راز جو کہ چُھپا رہا ہُوں وہ ساز جو کہ چِھڑا نہیں ، میں وہ راگ جو نہ سُنا گیا  میں کہ کل کے وعدے پہ مر مٹا، میں کہ پل سے پہلے ہی  پِل پڑا  میں ہُوں بند ریشمی جال میں، جو ہے میرے گرد بُنا گیا   میں کہ مستعار کی زندگی ،کوئی کھیل یا کہ ہُوں دل لگی  یہ  ادھار میں نہ چکا سکا بھلے سُود سو سو گُنا گیا بڑی خواہشوں سے اٹا ہوا، کئی حسرتوں سے کٹا ہوا اسی دُھن پہ دل ہے ڈٹا ہوا، جو ازل میں کوئی سُنا گیا

محبت

‏سلسلہ محبت کا  آرزو سے قائم ہے رابطہ محبت کی  اک دلیل ہوتا ہے  پھر یہ رابطہ چاہے  گفتگو کا نہ بھی ہو ہاں مگر تخیل میں  بات چیت ہوتی ہے  جب تلک محبت ہے   یاد زندہ رہتی ہے جب تلک تصور ہے پریت بڑھتی رہتی ہے خیال سے جو اوجھل ہو  ختم وہ محبت ہے  یہ بھی اک حقیقت ہے  عاشقی کو دنیا میں   عیب جانا جاتا ہے  اس لئے تو اکثر ہی پیار چاہے ہو بھی تو  صاف مُکر جاتے ہیں  مان جانے والوں کو  لوگ چھوڑ دیتے ہیں پیار کرنے والوں کو  توڑ پھوڑ دیتے ہیں مجھ سے گر جو پوچھو تو   پیار ایک ہوّا ہے ہاتھ جو نہیں آتا  روپ جو بدلتا ہے 

پنجابی مناجات

  تیرے بِن نہ در اے کوئی جس تے جا کے منگیے دے اپنے محبوبﷺ طفیلوں فضل و کرم دے تَھبّے  میں عاجز مسکین نماناں ، توں مالک ایں کُل دا تیری مِلک حکومت اندر، فیر کیوں پھِراں میں رُل دا؟ اوتھے بِن نہ دارُو درداں، اوتھے شفا خزینے مرنوں پہلے اک واری مَیں حاضر ہونواں مدینے   تیرے کَلّے "کُن" نے کیتی پیدا کُل خُدائی توں چاہویں تے پل وچ مُکّن ساڑے، سوز، جُدائی 

گلّاں کرناں ، وکھری گل اے

گلّاں کرناں ، وکھری گل اے ٹُرناں مرناں، وکھری گل اے    خلقت سِر نوں چُکّی پھر دی   قدمیں دھرناں، وکھری گل اے جتھے ویکھو، عشق دے قصے  عشق نوں جَرناں، وکھری گل اے  سارے سب توں جِتناں چاہون  جان کے ہرناں، وکھری گل اے ڈاہڈیاں کولوں سارے ڈردے    آہ توں ڈرناں ، وکھری گل اے ملک الموت تے سب نوں مارے  جیوندیاں مرناں، وکھری گل اے  

جنابِ غالب کی زمین میں ایک غزل

کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں باطن میں کائنات سے کم تر نہیں ہُوں مَیں اے آفتاب ! گرمئِ عشقِ حبیب میں  تُجھ سے سِوا ہوں، تیرے برابر نہیں ہُوں مَیں تاریکیوں کے درمیاں جلتا ہوا چراغ  راتوں کی داستان ہوں، دن بھر نہیں ہُوں مَیں اپنے ہی حُسن کے لئے خود ہی ہُوا حجاب  جانے سے جاودان ہوں، ہو کر نہیں ہُوں مَیں دیکھے یہ صبح و شام، ہزاروں طرح کے رنگ  افسوس! اپنی آنکھ کا منظر نہیں ہُوں مَیں دل میں بسا کے اُن کو تو  دل اُن کو دے دیا  باہر ضرور ہُوں مگر اندر نہیں ہُوں مَیں  30 نومبر 2024

شافع محشر ﷺ:

الاماں! وہ   سماں قیامت کا قہر و رنج و فغاں قیامت کا نفسی نفسی پکارتا ہوگا ہر کوئی دُھول میں اٹا ہوگا نظریں اپنوں سے سب چرائیں گے “ کوئی  نیکی نہ مانگے” سوچیں گے ماں سے بیٹا کہ چھپ رہا ہوگا ماں نہ پوچھے گی حال بیٹے کا بھائی بھائی سے بھاگتا ہوگا باپ  دھتکارے گا سگا بیٹا  کام اپنے نہ کوئی آئیں گے انبیا تک  پناہ مانگیں  گے سب کے  اعضا سبھی دغا دیں گے ہر گواہی وہ برملا  دیں گے  حق تو  یہ  ہے کہ بے وفا ہوگا  پیارا دنیا میں جو رہا ہوگا ایک ہی خوف ڈس رہا ہوگا  آج  انجام جانے کیا ہوگا ہاں مگر ایک آسرا ہوگا جو کہ محشر میں  باوفا ہوگا بن کے برسے گا ابر رحمت کا دُور کردے گا خوف اُمّت کا سید المرسلین ﷺ ہونگے وہ رحمتِ عالمین ﷺ ہوں گے وہ

مناجات

تُو میرا آسرا ہے یا خدایا کہ لب پر مدعا ہے یا خدایا دو عالم کی مجھے حسنات دے دے نبی ﷺ کا واسطہ ہے یا خدایا مرے اجداد کو بخشش عطا کر مری اولاد کو عشق آشنا کر قیامت تک کی میری ہر نسل کو  غلامِ بادشاہِ انبیا ﷺ کر نظر کی دھار کو تلوار کردے مرے گِرداب کو پتوار کردے تُو ہر پل جاگتا ہے میرے مالک  مقدر اُونگھتا بیدار کردے مرے دل کو محبت کا دِیا کر مری آلودگی ، صدق و صفا کر  مرے کُنبے کو رحمت میں چھپا لے  مرے گھر کو غلامِ مصطفیٰ ﷺ کر میں عاجز ہُوں، تُو قادر یا خدایا میں عاصی ہُوں، تُو اکبر یا خدایا میں تیرے واسطے ہُوں اشک لایا ان اشکوں کو گُہر کر یا خدایا ولایت کا مجھے تمغہ عطا کر شہادت کا مجھے رتبہ عطا کر تُو چاہے تو گدا کو شاہ کردے محبت کا مجھے جرعہ عطا کر نبی ﷺ کے عاشقوں میں کر دے شامِل  انہی ﷺ کی چاہ رکھے مجھ کو بسمل زمیں سے آسماں کردے خدایا  کہ رشکِ عرش ہو جائے مرا دِل #حرفِ_راشد