Posts

سو دُشمݨ پَھٹّ لگاوندا

سو دُشمݨ پَھٹّ  لگاوندا اک سجّݨ رکّھے پھاہ سو  دُشمݨ سُݨ کے سُنّ اے اک  سجّݨ  آکھے، واہ سو دُشمݨ  ڈھاہوے حوصلے دیوے  سجّݨ  موڈھا، ڈھاہ سو  دُشمݨ  آکھے ، کَکھ نئیں  دیوے  سجّݨ  لکھ بنا  سو دُشمݨ  ہوہکے بھردا  اک  سجّݨ  کرے دعا  سو  دُشمݨ  لَوݨ  چواتیاں  دیوے سجّݨ  اگّ بُجھا  جگ دُشمݨ  ہوجائے،  ڈوگرا ! رکّھے سجّݨ ، سینے لا #حرفِ_راشد

بات وہ ہو جو دل کو لگتی ہو

بات وہ ہو جو دل کو لگتی ہو بات ایسی جو تیری میری ہو  خواب ایسے جو تیرے جیسے ہوں نیند ایسی جو خواب جیسی ہو من کے آنگن میں پھول کِھلتے ہوں  پیار کی رُت بہار کی سی ہو جھانک کر آنکھ، دل کو پڑھ ڈالے  لفظ جس میں نہ ہوں، وہ بولی ہو آنکھ کو بھائے آنکھ میں نہ چُبھے  پھول پر اس قدر ہی سُرخی ہو ساری دنیا حسِین ہے راشد  سادگی حُسن کی کسوٹی ہو

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی جوانی کے باطن میں ہے اک جوانی  عجب ہے کہ مرنے سے پھر جی اٹھے ہیں  کہ فانی کے پہلو میں تھی جاودانی  خوشی سے بھی  آئے اداسی کی خوشبو  دو غم مل کے بنتے ہیں خوشیوں کے بانی  بجے رو کے باجا ،  ہنسیں سن کے  آنسو   نئی ہے ابھی جو، وہ کل ہے پرانی جو سرگم کی لہروں پہ غم تیرتا ہے تو  درد و الم  ہیں جنم  کی  نشانی  کسی کو ڈبوئے کسی کو جِلائے  سو رنگوں  کا مظہر  ہے بے رنگ پانی  تغیر کے دھاگے سے ہستی سِلی ہے یہی  تانا بانا بُنے  زندگانی 

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک  سو راز ہوں، کردیتی ہے مستی کی نظر، چاک برسوں کی ریاضت سے ملِے جُبّہ و دستار  بس عشق کی آمد تھی کہ تھا علم و ہنر چاک انسان کی فطرت میں ہے تخریب کا پہلو  ہو سکتے تو کر دیتا ابھی شمس و قمر چاک  صحرا ہوں کہ گلشن ہوں، وہ باطن میں ہیں یکساں    ملتی ہے وہی شے ، جو کریں ریگ و گہر چاک کمہار کے ہاتھوں سے اخذ کر کے محبت  کوزہ تھا کہ رقصاں رہا قدموں تلے دھر چاک 

رباعی

متاعِ فِکر و فن   افلاک کہ فنکار کے آماج ہوئے  سردار نہ دستار کے محتاج ہوئے  ہم کو بھی عطا سلطنتِ فکر ہوئی  ہم بھی تو ہیں بے تاج، مہاراج ہوئے

کُشتۂِ خاکِ حجاز

Image
الحمدللّٰہ میرا ‏ "نعتیہ و منقبتہ کلام و رباعیات"  ‏کا پہلا مجموعہ شائع ہوچکا ہے   ‏نام کتاب: کُشتۂِ خاکِ حجاز  ‏شاعر: راشد محمود ڈوگر ‏کتاب کے حصول کی تفصیلات درجِ ذیل ہیں: ‏1. شمع بک ایجینسی (یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور) ‏ 03049882233 (92+) ‏2. ڈاکٹر اسد الرحمن (میرپورخاص، سندھ)  ‏ 03017836036 (92+) ‏⁧‫

تعارفِ کتاب

Image
‏جنابِ غالب نے تو فرمایا تھا کہ  ‏“سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری” ‏جہاں تک مجھ خاکسار کا تعلق اور علمِ ناقص ہے، اس کی دھندلی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہُوں کہ میرے پُرکھوں کا پیشہ، سپہ گری، کاشت کاری ، یا تجارت کچھ بھی رہا ہو، شاعری ہرگز نہ تھا۔  ‏گو بچپن ہی سے قلّتِ مال و متاع کے باوجود ، اپنے گھر میں مطالعہ اور علم دوستی کا وفُور پایا۔ اس لئے سکول سے قبل ہی مطالعہ سے آشنائی اور کتابوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو سے دلربائی ہوچکی تھی۔  ‏پھر یہ محبت شاید عشق و جنون میں ڈھل گئی۔ سکول کی پہلی کتاب میری پہلی محبوبہ تھی۔ یُوں زندگی ان گنت محبتوں میں بسر اور بے شمار محبوباؤں کی نذر ہوتی چلی گئی۔   ‏مطالعے کا سلسلہ تو جاری رہا البتہ چالیس سال تک ڈائری، خطوط، سکول و کالج کے نوٹس ، انواع و اقسام کے مُلکی و غیر ملکی درخواستی فارمز اور زوجۂِ محترمہ کی بتائی خریداری کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہ لکھا۔ یکایک زندگی نے عجب کروٹ لی اور خاکسار نے لکھنا شروع کردیا۔ ابتداءً نثر اور پھر نثر چلتے چلتے شعر کا روپ دھار گئی۔ جیسے کوئی بتدریج بچپن سے شباب میں داخل ہوجائے۔  ‏ال...