Posts

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے ‏کسی کو یار کا غم ہے، کہیں دلدار کا غم ہے  ‏کہیں بے روزگاری ہے، کہیں شکوہ مشقت کا    ‏کہیں بے کار کا غم ہے، کہیں بے گار کا غم ہے ‏کہیں غم ہے کہ غم کو بانٹنے والا نہیں ملتا  ‏کہیں ہر وقت سر پر ناچتے غم خوار کا غم ہے  ‏کہیں غم ہے کہ کھانے کو میسر صرف فاقے ہیں ‏کہیں چڑھتی ہوئی چربی تو بڑھتے بار کا غم ہے ‏کہیں سردی ستاتی ہے، کہیں گرمی نے مارا ہے ‏کہیں صحرا سرابی ہیں، کہیں منجدھار کا غم ہے ‏کہیں غم ہے محبت کا، کہیں غم ہے معیشت کا  ‏کہیں غم ہے مصیبت کا، کہیں آزار کا غم ہے  ‏کہیں قربت نے گھیرا ہے، کہیں فرقت کے سائے ہیں ‏کہیں تنہائی ڈستی ہے، کہیں دو چار کا غم ہے ‏کہیں چلنے کی جلدی ہے، کہیں رُکنے کا رونا ہے ‏ کہیں ساکن اذیت ہے، کہیں رفتار کا غم ہے  ‏کہیں پر کھوجنے کی دُھن، کہیں حسرت بھلانے کی ‏کہیں افکار کا غم ہے، کہیں اسرار کا غم ہے

سو دُشمݨ پَھٹّ لگاوندا

سو دُشمݨ پَھٹّ  لگاوندا اک سجّݨ رکّھے پھاہ سو  دُشمݨ سُݨ کے سُنّ اے اک  سجّݨ  آکھے، واہ سو دُشمݨ  ڈھاہوے حوصلے دیوے  سجّݨ  موڈھا، ڈھاہ سو  دُشمݨ  آکھے ، کَکھ نئیں  دیوے  سجّݨ  لکھ بنا  سو دُشمݨ  ہوہکے بھردا  اک  سجّݨ  کرے دعا  سو  دُشمݨ  لَوݨ  چواتیاں  دیوے سجّݨ  اگّ بُجھا  جگ دُشمݨ  ہوجائے،  ڈوگرا ! رکّھے سجّݨ ، سینے لا #حرفِ_راشد

بات وہ ہو جو دل کو لگتی ہو

بات وہ ہو جو دل کو لگتی ہو بات ایسی جو تیری میری ہو  خواب ایسے جو تیرے جیسے ہوں نیند ایسی جو خواب جیسی ہو من کے آنگن میں پھول کِھلتے ہوں  پیار کی رُت بہار کی سی ہو جھانک کر آنکھ، دل کو پڑھ ڈالے  لفظ جس میں نہ ہوں، وہ بولی ہو آنکھ کو بھائے آنکھ میں نہ چُبھے  پھول پر اس قدر ہی سُرخی ہو ساری دنیا حسِین ہے راشد  سادگی حُسن کی کسوٹی ہو

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی جوانی کے باطن میں ہے اک جوانی  عجب ہے کہ مرنے سے پھر جی اٹھے ہیں  کہ فانی کے پہلو میں تھی جاودانی  خوشی سے بھی  آئے اداسی کی خوشبو  دو غم مل کے بنتے ہیں خوشیوں کے بانی  بجے رو کے باجا ،  ہنسیں سن کے  آنسو   نئی ہے ابھی جو، وہ کل ہے پرانی جو سرگم کی لہروں پہ غم تیرتا ہے تو  درد و الم  ہیں جنم  کی  نشانی  کسی کو ڈبوئے کسی کو جِلائے  سو رنگوں  کا مظہر  ہے بے رنگ پانی  تغیر کے دھاگے سے ہستی سِلی ہے یہی  تانا بانا بُنے  زندگانی 

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک  سو راز ہوں، کردیتی ہے مستی کی نظر، چاک برسوں کی ریاضت سے ملِے جُبّہ و دستار  بس عشق کی آمد تھی کہ تھا علم و ہنر چاک انسان کی فطرت میں ہے تخریب کا پہلو  ہو سکتے تو کر دیتا ابھی شمس و قمر چاک  صحرا ہوں کہ گلشن ہوں، وہ باطن میں ہیں یکساں    ملتی ہے وہی شے ، جو کریں ریگ و گہر چاک کمہار کے ہاتھوں سے اخذ کر کے محبت  کوزہ تھا کہ رقصاں رہا قدموں تلے دھر چاک 

رباعی

متاعِ فِکر و فن   افلاک کہ فنکار کے آماج ہوئے  سردار نہ دستار کے محتاج ہوئے  ہم کو بھی عطا سلطنتِ فکر ہوئی  ہم بھی تو ہیں بے تاج، مہاراج ہوئے

کُشتۂِ خاکِ حجاز

Image
الحمدللّٰہ میرا ‏ "نعتیہ و منقبتہ کلام و رباعیات"  ‏کا پہلا مجموعہ شائع ہوچکا ہے   ‏نام کتاب: کُشتۂِ خاکِ حجاز  ‏شاعر: راشد محمود ڈوگر ‏کتاب کے حصول کی تفصیلات درجِ ذیل ہیں: ‏1. شمع بک ایجینسی (یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور) ‏ 03049882233 (92+) ‏2. ڈاکٹر اسد الرحمن (میرپورخاص، سندھ)  ‏ 03017836036 (92+) ‏⁧‫