Posts

خیالات و افکار

  سخن ور کے لئے خیالات و افکار ایسے ہی ہیں جیسے کسی طفل کے لئے تتلیاں، جب بھی کوئی خیال اپنے انوکھے رنگوں سمیت جھلک دکھلاتا ہے تو مفکر و سخن ور کا اندرونی طفل اس کے پیچھے بے اختیار لپکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسمانی نقل و حرکت اگر پوری طرح جامد نہیں ہوتی تو سست ضرور پڑتی ہے۔ اُدھر حقیقت کی دنیا کے اپنے ٹھوس مسائل ہیں جو حاضر دماغی اور جسمانی چستی کے متقاضی ہیں۔ نتیجتاً ، تخلیق کار کو اپنی تخلیقات کی وہ قیمت چکانی پڑتی ہے جس کا ادراک ایک تخلیق کار کے علاوہ شاید ہی کوئی رکھتا ہو۔ "میرے اشعار مرے رتجگوں کی قیمت ہیں مفت پڑھنا بھی جنہیں کوئی گوارا نہ کرے "

حُسین علیہ السلام

Image
  غالباً انسان کا خوبصورت اور جاذب ترین رُوپ اس کا کسی غاصب و جابر کے خلاف باغی کا یا آزادی کے جنجگو کا ہوتا ہے۔ ‏وہ Spartacus ہو یا Joan of Arc، ‏William Wallace ہو یا Martin Luther King، ‏سلطان ٹیپو ہو یا بھگت سنگھ ، ‏چی گویرا ہو یا بھنڈرانوالا، ‏نیلسن منڈیلا ہو یا ملا عمر ، ‏ان میں سے ہر ایک آئینے کے چمکدار رخ کی طرح ، تاریخ کے روشن پہلو ہیں۔ ‏آخر کیا وجہ ہے کہ حقیقی زندگی ہو یا افسانوی کردار ، بہادر، باغی اور سورما ہمیشہ ہر ایک کے دل میں گھر کرلیتا ہے؟ ‏بہت سی وجوہات ہونگی مگر جو میرے دل نے مانی وہ یہ ہے کہ ان سب کے سردار ، امام اور باشاہ ، ‏سیّدی و سیّدُکم، جنابِ حُسین علیہ السلام ہیں جن کا ایک اسم ِ پاک شبّیر (حسِین ترین مرد) بھی ہے۔ ‏آپ کے انکار و استقامت کے ہزار پہلو، ہزار وجوہات، ہزار حکمتیں اور ہزار اسباق ہونگے اور ہیں ‏البتہ جو سب سے نمایاں اور ممتاز پہلو ہے وہ یہ کہ بہادر سے بہادر انسان کو ، اس کے پیاروں کے گزند سے خوفزدہ کرکے توڑا جاسکتا ہے۔ ‏فسطائی اور جابر حکمران صدیوں سے آج تک یہ ہتھکنڈے استعمال کرتے آئے ہیں ۔ ‏لیکن سیدنا حسین علیہ السلام خود ہی اپنی ہر ...

جنگل میں اک ناچا مور

  جنگل میں اک ناچا مور ‏جنگل میں تھا شور ہی شور پتّوں کی تھیں سائیں سائیں ‏کوَّں کی تھیں کائیں کائیں گیدڑ کی تھی چیخ پُکار ‏اُلّو کی تھی سوچ بچار بندر، بھالُو، لگّڑ بھگّے ‏مینڈک، جھینگر، مچھر، کیڑے ‏ مگر مچھ ، دریائی گھوڑے ‏ہاتھی ، ہرنی، شیر اور چِیتے مگن تھے سارے اپنی دُھن میں ‏مور کو دیکھیں کس کی آنکھیں؟ ناچتے ناچتے چُور ہوا وہ ‏چُور ہوا، رنجُور ہوا وہ اس کے پیر تھے لہُو لہان ‏تھک کر اُس نے دے دی جان جنگل میں تھا شور ہی شور ‏دیکھا کس نے ناچتا مور؟

Alliteration

  ‏اردو شاعری میں بحر و قافیہ ردیف کی مانند ہی ‏انگریزی شعریات میں alliteration کی بڑی اہمیت ہے۔ ‏Alliteration ‏انگریزی شاعری میں الفاظ کی ابتدائی آوازوں کی تکرار کو کہتے ہیں۔ ‏مثلاً شیکسپئیر کے ٹیمپسٹ میں ‏ “Full fathom five thy father lies” ‏ایس ٹی کولریج کا ‏The fair breeze blew, the white foam flew” ‏ اور ایڈگر ایلن کا ‏“While I nodded, nearly napping” ‏ وغیرہ ‏اس خاکسار نے اپنی اردو شاعری اور نثر میں جابجا اور بے اختیار اس کا استعمال کیا ہے۔ ‏مثلاْ: ‏“جلتے جلتے جم جاتا ہے تیکھا تیل تخیل کا ‏بجھتے بجھتے بھڑکے پھر سے شعلہ شوخ خیالوں کا” ‏“شہرِ الفت کو جو جاتے ہو تو جانو کہ وہاں ‏ ‏کر گزرتے ہیں، خسارا نہیں پوچھا کرتے” ‏“چاندنی، چال تری چل کے افق پر پھیلی ‏ ‏روشنی، رُوپ میں رس بس کے گھروں تک آئی” ‏“مرے تخیل میں آن بیٹھا کسی تصور کا ایک پرتو ‏کسی مصورنےاپنے فن سے دئے ہیں جس میں اتارجگنو” ‏“ہو تجھ پہ عیاں کیسے بھلا حرف حقیقت ؟ ‏ہندسوں کا ہدف ہے ترے حالات پہ حاوی” ‏“پتّے ہیں پیڑ پر کہ ہے پریوں کا پیرہن؟ ‏بدلی ہوئی ہے رُت یا ہے میلہ لگا ہوا ؟”

‏ماں جائی

  ‏روشن ہے دیِا دل میں تری یادوں سے جھُلسا ہے جگر میرا جلے خوابوں سے ‏آتی تھی مہک ماں کی ترے آنچل سے ‏رِستا ہے لہو تیرا مرے زخموں سے ‏

دِل

  خدائی راز ہے یہ دِل ادائے ناز سے بِسمِل کہ ذکرِ یار سے کامِل جفائے کار میں شاِمل کسی کی یاد سے جھِلمِل انوکھے دیس کا ساحِل کہ چشمِ عشق کا یہ تِل خودی لیلیٰ خودی محمِل سدا تنہائی پر مائِل سجائے درد کی محفل کہ اپنا آپ ہی حاصِل ہے اپنی آپ ہی منزِل

ایمان:

  ‏ اِبلاغ و رسائل کا مُحتاج نہیں ‏اسباب و وسائل کا مُحتاج نہیں ‏ایمان مرے رب کی عطا ہے راشد ‏ایمان، دلائل کا مُحتاج نہیں