جُگنو
ہیں میرے دل میں اک آرزو کے ہزار اور بے شمار جگنو
کہ جس پہ قربان سارے موسم، یہ چاند تارے بہار جگنو
مرے تخیل میں آن بیٹھا کسی تصور کا ایک پرتو
کسی مصور نے اپنے فن سے دئے ہیں جس میں اتار جگنو
اگرچہ دن رات تَن کی پونجی کو دھیرے دھیرے لٹا رہے ہیں
پہ ہر گھڑی میرے حرف موتی دمک رہے جیسے یار جگنو
مِلا ہے مجھ کو کسی سخی سے گیان گہرا دھیان دو چند
عطا ہیں مجھ کو کسی ولی سے خیال کے جاندار جگنو
سنو گے تم تو سنائی دیں گے ہاں سُر تمہاری ہی دھڑکنوں کے
جھکاؤ سر تو دکھائی دیں گے خود اپنے اندر ہزار جگنو
مرے شریکِ سفر رہے ہیں سہانے ساون تو سرد راتیں
مری ہتھیلی پہ آج تک ہیں بہار شاموں کے چار جگنو
26 جون 2022
Comments
Post a Comment