اُلٹے سانپ سپیرے کو :

 

نانا جی کے لڑکپن کے زمانے سے پہلے اور بہت بعد میں ہمارے بچپن تک، دیہاتوں اور کھیتوں میں کسانوں کو درپیش سانپوں کی حقیقت، نانا جی کی اب تک کی کہانیوں میں بیان شُدہ رومانوی اور مافوق الفطرت پہلؤں کے برعکس، نہایت کرخت اور بھیانک تھی۔ ہر قسم کے سانپ کو دشمن سمجھا اور دیکھتے ہی مار دیا جاتا تھا۔ سانپوں ہی پر کیا موقوف، بچوں کو پالتو پرندوں اور مفید مویشیوں کے علاوہ ہر قسم کے جانوروں اور حشرات سے خوف زدہ رکھنا اور انہیں تلف کرنے کی تعلیم و ترغیب دینا تمام والدین کے تربیتی سلیبس کا جزوِ لازم تھا۔
مثلاً بچپن میں ہم سب کو یقین تھا کہ کچھوے کے پہلو میں پیدائشی حیاتیاتی درانتی اور جنگلی سؤر کے منہ پر برچھی ہوتی ہے۔ ایک بھِڑ کو مارنے کا ثواب دو نفل ادا کرنے کے برابر ہوتا ہے اور ایک بِچھُو کو مارنے کا چار نفل کے برابر۔ پھوْی (جس گیدڑی یا کُتیا کے نومولود بچے ہوں) شیرنی سے زیادہ تُند خو اور خطرناک ہوجاتی ہے۔ دو منہ والا سانپ بھی ہوتا ہے اور اُڑنے والا بھی۔ اس کے علاوہ خوردنی اشیاء ضائع کرنے کے دنیا اور آخرت میں خطرناک نتائج کا بھی ہم سب کو یقینِ کامل تھا۔ مثلاً کسی بچے سے پسا ہوا نمک یا مرچ زمین پر گرانے کا جرم سرزد ہوتا تو والدین اور دوسرے بڑے اس دنیا میں پٹائی کے تحفے ساتھ ساتھ حشر میں ان مصالحہ جات کو آنکھوں سے اٹھائے جانے کے عذاب کی بشارت بھی عطا کرتے تھے۔
در حقیقت اس موروثی خوف و تشدد کی ترسیل کے پسِ پردہ بچوں کی حفاظت اور رزق کے تحفظ کے عوامل کار فرماتھے۔ دیہی آبادی کی اکثریت انتہائی غریب ،اشیائے خورد و نوش، اور تعلیمی و طبی وسائل انتہائی قلیل اور خطرات و امراض انتہائی کثیر تھے، لہذا ایسے انتہائی اقدامات ناگزیر تھے۔
نتیجتاْ ، ہر کوئی بچپن ہی سے خطرات سے محتاط رہتا اور زہریلے سانپ کے کاٹنے کے واقعات نسبتاً کم اور یادگار ہوتے۔
ایک مرتبہ ناناجی کی ایک خالہ حوائج ضروریہ کے بعد کھیتوں سے لوٹیں تو ان کا بایاں پاؤں اور پنڈلی اچانک نیلگوں مائل ہوکر غبارے کی مانند پُھول گئی۔ ناناجی اور ان کا خالہ زاد بھائی، ماسی خیراں کو فوراً بیل گاڑی پر ڈال کر سائیں سوہڈھے کے گاؤں روانہ ہو گئے۔
سائیں سوہڈھے کا اصل نام جانے کیا تھا لیکن وہ علاقے میں اسی نام سے مشہُور تھے۔ ان کا گاؤں نانا جی کے گاؤں سے چار پانچ میل دُور تھا۔ ان کی عمر لگ بھگ اسّی برس تھی۔ شملے والی سفید پگڑی ، سفید داڑھی، بڑی بڑی بادامی آنکھیں ، سرخ و سفید چہرہ اور بارعب شخصیت و لب و لہجہ۔
وہ سانپ کے کاٹے کے علاج کے دم کے لئے جالندھر بھر میں مشہور تھے جو انہیں اپنے دادا جی سے، ان کے تایا جی کے واسطے سے وراثت میں ملا تھا۔ وہاں پہچنے پر سائیں سوہڈھے نے ماسی خیراں کی ٹانگ پر منہ ہی منہ کچھ پڑھ کر چند پھونکیں ماریں، تیل نما دوائی ملی اورانہیں زنان خانے بھیج کر آدھا دن آرام کرنے کو کہا۔ وہ چلی گئیں تو ایک طرف منہ کرکے بڑبڑانے لگے جیسے کسی سے گفتگو کررہے ہوں۔ اس کے بعد نانا جی اور ان کے خالہ زاد کو مخاطب کرکے کہنے لگے کہ ماسی کو ڈسنے والا سانپ انتہائی زہریلا، ضدی ہے اور ماسی کی جان کے درپے۔ وہ تم لوگوں کے تعاقب میں یہاں تک آیا تھا۔ میں نے اس کے زہر کے تریاق کے ساتھ ساتھ اس سے بات کرکے تمہاری والدہ کی جان بخشی کا وعدہ بھی لے لیا ہے۔ اب ماسی کے نام طرح ہی انہیں سَتّے خیراں ہیں۔ کچھ دیر آرام کے بعد تم لوگ بے فکر ہوکر واپس جاسکتے ہو۔
نانا جی نے اپنے فطری تجسس سے مجبور ہوکر سائیں سوہڈھے سے سانپ کے کاٹے کا علاج سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
سائیں جی بارعب انداز سے کہنے لگے، “بچے! اب یہ علم سیکھنا سکھانا ممکن نہیں رہا کیونکہ زمانہ انتہائی خراب ہوچکا ہے “
نانا جی نے عرض کی ، “ سائیں جی! ایسا کیوں ممکن نہیں رہا اور آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ زمانہ خراب ہوچکا ہے؟”
سائیں جی فرمانے لگے، “اس علم کے طالب اور اس علم کے حامل کے لئے لنگوٹ کا پکّا ہونا اوّلین و اشد شرط ہے جس کا اب زمانہ نہیں رہا۔ اس لئے کہ جب میں تمہاری عمر کا تھا تو ماہگھ کی ایک سرد چاندنی رات میں اپنے ڈیرے پر مویشیوں کے پاس سویا ہوا تھا کہ گھوڑے کے ہنہانے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ اٹھ کر دیکھا تو ایک اجنبی گھڑ سوار کو ڈیرے پر پایا۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ ایک نہایت حسین و جمیل برہمن دوشیزہ تھی جو سرشام راستہ بھول کر ادھر آکر بھٹکی۔ میں نے اس کی ڈھارس بندھائی کہ فکر کی کوئی بات نہیں اور اس کے لئے وہاں پڑی زائد چارپائی اور بستر بچھایا اور واپس جاکر سوگیا۔
تہجد کے وقت جاگ کر حسبِ معمول عبادت و ذکر اذکار کے بعد دیکھا تو میری مہمان جاگ چُکی تھی۔ اسے گرم دودھ پیش کیا اور رخصت کردیا۔ آج نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد ضعیف العمر ہونے کے باوجود مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ ایک حسین و جمیل برہمن لڑکی اکیلی میرے پاس رات گزار گئی، افسوس ! میں نے اُسے چھوا تک نہیں۔
مجھے تنگ کرنے والا یہ شیطانی خیال موجودہ زمانے کی خرابی کی دلیل ہے”۔
نانا جی نے انکار کی دل شکنی کے کڑوے گھُونٹ بھر کر سائیں جی سے پوچھا کہ ان کے دادا کے پاس سانپوں کی پہچان اور ان کے زہر کے تریاق کا علم کیسے آیا؟
سائیں جی کا لہجہ بدلا جیسے ان کے وجود کا ایک حصہ اپنے اجداد کے زمانے کی طرف محوِ سفر ہوگیا ہو اور وہ گویا وہیں سے آنکھوں دیکھا ماجرا سنانے لگے،
“ یہ خود دادا جی کے گھر والوں سمیت ، سب کے لیے ایک معمہ و اسرار ہی رہا کہ دادا جی کے پاس یہ علم کب، کہاں سے اور کیسے آیا۔ البتہ اس علم کا ظہُور و نظارہ ،سوا نیزے کے سورج کی طرح ، سب نے دیکھا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب دادا جی اٹھارہ بیس برس کے جوان تھے۔ ان کے تین بھائی اور تھے لیکن دادا جی اپنے بھائیوں سمیت اپنے تمام ہم عمر لڑکوں سے الگ تھلگ اور انوکھی شخصیت کے حامل تھے۔ تنہا، خاموش اور کئی کئی دن گھر سے غائب رہنا ان کا وطیرہ تھا۔ گاؤں سے باہر راجپوتوں کے کُھوہ پر پیپل ، برگد اور جامن کے درخت تھے جہاں گاؤں کے بڑے بوڑھے بزرگ سارا دن اور کام کرنے والے نسبتاً جوان کسان سرِشام آکر بیٹھتے ، حقہ گڑگڑاتے ، ہنستے اور گپیں ہانکتے۔
البتہ پچھلے چند ماہ سے سب باتوں کا لہجہ اور مزاج سنجیدہ ہوچکا تھا اور گفتگو میں، سنگتروں میں کڑواہٹ کی مانند، خوف کی جھلک واضح ہوتی اور موضوعِ سخن ہمیشہ “ظالم جوگی” ہوتا۔
قصہ کچھ یوں تھا کہ ان دنوں اس علاقے کے متعدد گاؤں ایک پراسرار اور شیطانی جوگی کے آسیب میں مبتلا تھے۔
وہ گاؤں گاؤں گھومتا، بین بجا کر مجمع کھڑا کرتا، اور پٹاری سے کئی قسم کے سانپ نکال کر چکنی چپڑی باتیں کرکے لوگوں، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو مسحُور کرتا تب اچانک ایک پٹاری کا ڈھکن اٹھاتا، جو رنگ برنگ کے قیمتی جواہرات سے پُر ہوتی، جب نوجوانوں کا دل پوری طرح اس خزانے کی طرف مائل ہوجاتا تو وہ کہتا کہ اس کے پاس ایک انتہائی خطرناک اور مہلک سانپ ہے جس کا ڈسا چند منٹوں میں مر جاتا ہے۔ ساتھ ہی زہر کو چُوس کر زائل کر دینے والا ایک منکا بھی ہے جسے سانپ کے کاٹے کی جگہ لگا دو تو وہ سارا زہر چوس لیتا ہے۔ عام زہریلے سانپ کاٹ لیں تو منکا یقینی طور پر سارا زہر چُوس کر مارگزیدہ کو فوراً تندرست کردیتا ہے۔ البتہ اس کا وہ سانپ اس قدر زہریلا ہے کہ منکے کے استعمال کے باوجود کچھ انسان لقمۂ اجل بن جاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں ۔ جو جوان برضا و رغبت اس سانپ سے خود سے ڈسوانے کے آگے بڑھے گا تو جوگی اسے پہلے سانپ سے ڈسوائے گا پھر منکے سے اس کا علاج کرے گا۔ اگر جوان مر جاتا ہے تو جوگی پر اس کا کوئی ذمہ نہ ہوگا اور اگر خوش قسمتی سے بچ جاتا ہے تو جوگی اسے ہیرے جواہرات سے بھری پٹاری اور زہر زائل کرنے والا منکا انعام کے طور پر سونپ دے گا۔
جوانی دیوانی ہوتی ہے اور خطرات کو خوبصورتی کا لبادہ اوڑھا دیتی ہے۔ نتیجتاً آئے روز کوئی نہ کوئی جوان آگے بڑھتا البتہ ان میں سے آج تک ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ یوں وہ جوگی ملک الموت کی مانند گاؤں گاؤں جاکر نوجوانوں کو گویا گویا چُن چُن کر ختم کررہا تھا۔ وہ جس گاؤں میں آنکلتا ماؤں کے کلیجے کانپ اٹھتے اور باپوں کے دل دہل جاتے۔ وہ اپنے بچوں کو باہر نہ جانے پر مجبور کرتے۔ پھر بھی کچھ سر پھرے نوجوان اور نادان بچے اس کے گرد جمع ہوہی جاتے۔ یوں موت کا یہ بھیانک کھیل جاری رہتا۔
چوپال ویران ہونے لگے۔ محفلوں کی رونقیں دم توڑنے لگیں جہاں دو لوگ جمع ہوتے، ایک ہی بات ہوتی،
جوگی ، سانپ، موت۔
اور پھر ایک دن عصر کے وقت ، وہ خطرناک جوگی اچانک راجپوتوں کے کُھوہ پر نمودار ہوا۔
اس بار جو جوان آگے بڑھا وہ کوئی اور نہیں میرے اپنے دادا جی تھے۔ دادا جی کے بھائیوں نے انہیں جا پکڑا اور انہیں گالیاں دینے، مارنے اور واپس کھینچنے لگے۔ لیکن دادا جی حیرت انگیز اطمینان کے اپنے بھائیوں سے کہنے لگے کہ وہ بالکل بے فکر ہوجائیں اور پہلے ان کی باتیں غور سے سُن لیں۔ بھائی بادلِ نخواستہ پیچھے ہٹ گئے۔
تب دادا جی نے جوگی سے کہا کہ انہیں جوگی کی شرط منظور ہے لیکن ان کی بھی کچھ شرائط جوگی کو ماننا ہوں گی۔
پہلی شرط یہ کہ جوگی انہیں وہ سانپ دکھائے۔ جوگی نے سانپ انہیں دکھایا تو انہوں نے کہا کہ دوسری شرط یہ ہے کہ جوگی اب چلا جائے اور ٹھیک سات دن بعد یہیں آئے اور اس دوران کسی دوسری جگہ مجمع نہ لگائے۔
تیسری شرط یہ ہے کہ انہیں خزانہ نہیں چاہئے اور نہ جوگی منکے سے ان کا علاج کرے بلکہ وہ اپنا علاج خود تجویز کریں گے اور تندرست ہونے بعد جوگی خود کو ان کے حوالے کرے تاکہ وہ بھی جوگی کو اپنی مرضی کا سانپ ڈسوا سکیں۔
جوگی خوب ہنسا اور کہا جا نادان جوان تیری سب شرطیں منظور ہیں۔ لیکن یہ جان لے کہ میرے سانپ کا ڈسا ہوا پانی تک نہیں مانگتا اور جو سانپ مجھے کاٹ لے وہ خود مر جاتا ہے لیکن اب میں تمہیں مُکرنے نہ دوں گا۔ وہ یہ کہہ کر سات دن بعد لَوٹ کر آنے کے لئے چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی نوجوان دادا جی نے تمام گاؤں والوں سے عجیب فرمائش کی جہاں رہٹ کا پانی گرتا ہے اس تالاب کو مزید گہرا کریں اور گاؤں کے تمام مویشیوں کا گوبر اس تالاب میں جمع کریں۔ سات دن تک گوبر وہاں جمع ہوتا رہا۔ پھر دادا جی نے تمام گاؤں والوں، خصوصاً اپنے بھائیوں سے کہا کہ جیسے ہی جوگی کا سانپ انہیں ڈسے کچھ لوگ جوگی کو فوراً پیپل کے درخت کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیں۔ کچھ لوگ اسی وقت مجھے اٹھا کر گوبر میں پھینک دیں اور رہٹ میں بیل پہلے سے ہی جتے ہوں جیسے ہی میں گوبر میں جاؤں رہٹ چلا دیا جائے۔ آپ لوگ دیکھو گے کہ گوبر سے باقاعدہ دھواں نکلے گا جیسے کہ پانی کی بجائے وہاں آگ لگی ہو۔ جب تک گوبر سے دھواں نکلتا رہے گا، پانی آگے بڑھ کر بہنے کی بجائے وہیں جل کر ختم ہوتا رہے گا۔ چاہے کتنے ہی دن گزر جائیں مجھے وہاں سے ہرگز ہرگز نہ نکالنا اور جیسے ہی پانی آگے کی جانب بہنے لگے تو پھر میرے بھائی مجھے فوراً وہاں سے نکال کر رہٹ کے صاف گرتے پانی کے نیچے کر کے اچھی طرح غسل دیں۔
مرتے کیا نہ کرتے، دادا جی کی زندگی کا سوال تھا۔ سب نے دل کے کانوں سے ان کی عجیب و غریب ہدایات سُنی اور پلّے باندھ لیں۔
ٹھیک سات بعد عین اسی طرح ہوا۔ جیسے ہی جوگی کے سانپ نے نوجوان اور پُراسرار دادا جی کو ڈسا تو شور مچاتے اور احتجاج کرتے جوگی کو درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ دادا جی کو اٹھا کرفوراً گوبر میں پھینک کر رہٹ چلا دیا گیا۔ دادا جی کے پانی میں گرتے ہی پانی سے جلنے کی آواز کے ساتھ ساتھ دھواں نکلنے لگا۔
تین دن تین راتوں تک یہی صورت حال رہی۔ جوگی درخت سے بندھا رہا اور وہیں اسے کھانا پانی دیا جاتا رہا اور جگہ کی صفائی ہوتی رہی۔ بیلوں کی تازہ دم جوڑیاں آتی رہیں اور رہٹ چلتے چلتے ہی بدلی گئیں۔ رہٹ مسلسل چلتا رہا۔ پھر دھواں مدھم ہوتے ہوتے غائب ہوگیا، جلنے کی آواز بھی کم ہوتے ہوتے یکسر خاموش ہو گئی اور تین دن میں پہلی بار پانی آگے بہنا شروع ہوا تو دادا جی کے بھائیوں نے گوبر میں چھلانگیں لگا دیں۔ انہیں باہر نکالا اور اٹھا کر تازہ پانی کی دھار کے نیچے کر دیا۔ چند گھڑیاں جو صدیوں پر محیط تھیں، سب یاس و آس کی مجسم تصویر بنے دم بخود کھڑے رہے۔ تب دادا جی آنکھیں کھولیں لمبا سانس کھینچا اور
“یا حیّی و یا قیّوم “
کا فلک شگاف نعرہ بلند کیا۔ ان کے بھائی فرطِ جذبات سے انہیں گلے لگا کر رونے لگے اور باقی سب گاؤں والوں نے بیک وقت اللّہ اکبر کا ذکر بلند کیا۔
دادا جی کھانا کھاکر بنا وقت ضائع کئے اپنی پسند کے سانپ کی تلاش میں اس جنگل کی طرف اکیلے روانہ ہوگئے جسے گاؤں کے لوگ ذخیرہ کہتے تھے۔
بقول دادا جی کے، انہیں سانپوں کی بولی آتی تھی، اسی لئے دورانِ تلاش، بہت سے سانپ ان کے قریب آئے لیکن وہ کسی خاص سانپ کے متلاشی تھے۔ اتنے میں بارش شروع ہو گئی جو ان کے لئے امید کی ایک کرن تھی۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد انہیں ایک جگہ سے دھواں نکلتا ہوا نظر آیا وہاں پہنچ کر انہوں نے غور سے اوپر دیکھا تو بارش کا پانی کسی ان دیکھی چھتری کے زیرِ اثر گولائی میں ایک خاص جگہ کو مکمل چھوڑ کر آس پاس گر رہا ہے۔ اب وہ نپے تلے پُرعزم قدموں کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔ تب اُنہیں آدھ گز لمبا ایک خوبصورت سُرخ سانپ زمین پر گولائی کی شکل میں لپٹ کر بیٹھا نظر آیا جس کے چاروں طرف کی زمین مکمل خُشک تھی۔ دادا جی نے اس کا نام “گونگا سانپ” بتایا کہ جس کو صرف دیکھا جاسکتا تھا، سُنا نہیں۔ اسی لئے اس کی تلاش نہات دُشوار تھی۔
دادا جی نے جنتر منتر جیسی زبان میں سانپ سے کچھ کہا اور پھر آرام سے ایسے اٹھا لیا جیسے بچے بلونگڑا اٹھاتے ہیں اور واپس کُھوہ پر آگئے۔
جوگی نے انہیں دیکھا تو نفرت اور حقارت سے کہا کہ مانتا ہُوں تم بچ گئے لیکن اب کیا مجھے باندھ کر مارنے کا ارادہ ہے کیونکہ سانپ کے ڈسنے سے تو میں مرنے سے رہا کہ دنیا میں کوئی ایسا سانپ نہیں جو مجھے ڈسے اور پھر خود زندہ رہ جائے۔
دادا جی نے کچھ کہنے کی بجائے پٹاری آگے بڑھائی اور اس کا ڈھکن اٹھا دیا۔
سانپ کو دیکھتے ہی جوگی کا رنگ فق ہو گیا، خوف سے پتلیاں پھیل گئیں اور دادا جی کی منت سماجت کرنے لگا کہ اس کی جان بخشی کردی جائے۔ نوجوان دادا جی نے کہا کہ جوگی بابا ! شرط پوری کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔ میں نے اپنا قول نبھایا تم اپنا نبھاؤ، میں بچ گیا تم بھی بچ کر دکھاؤ ورنہ کوئی وصیت ہے تو بتاؤ۔
لیکن جوگی ہذیانی طور پر چیخ و پکار کرتا رہا۔ دادا جی نے خوبصورت سُرخ گونگے سانپ کو اشارہ کیا، وہ آگے بڑھا اور جوگی کے ہاتھ پر تیزی سے چھپٹا اور ڈس کر واپس پٹاری میں پلٹ آیا۔ دادا جی نے پٹاری کا ڈھکن بند کیا۔
اسی دورانیے میں جوگی ختم ہوچکا تھا۔
جہاں علاقے کا خوف و ہراس جاتا رہا، وہیں دادا جی کی شہرت بھی جنگل کی آگ طرح پھیل گئی۔
وہ دن اور آج کا دن ، دادا جی کے دونوں بیٹوں، چھ پوتوں اور ان گنت پڑپوتوں میں سے صرف میرے تایا جی اور ان کے بعد میرے پاس دادا جی کا موروثی علم ہے۔ شاید قسمت یاوری کرے تو کوئی قابل جوان میرے جیتے جی مجھے آملے تو یہ امانت اسے سونپ سکُوں ورنہ یہ علم شاید میرے ساتھ ہی دفن ہوجائے گا
___________________________
ختم شُد

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32