تفرقہ ‏و ‏تقسیم ‏

وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ

(بقرہ 36)



وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْ


یہ ایک المیہ ھے کہ انسان کے اندر تقسیم اور تفریق کی جبلت بہت گہری ھے۔ ہم بحیثیت انسان گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جو کہ ایک قدرتی عمل ھے۔ لیکن بہت سی صورتوں میں اختلاف، استحصال اور تشدد کا باعث بنتا ھے،


‏رنگ،نسل،مذہب، لسانی اور اقتصادی بنیاد پر تفریق اور تشدد کی مثالیں عام ہیں

تقسیم ہند کے موقع پر پنجاب میں ایک ہی زبان بولنے والوں نے مذہبی اختلاف پر ایک دوسرے کا قتل عام کیا۔ یورپی عیسائیوں نے اپنے ہی ہم مذہب افریقی عیسائیوں کو رنگ کے فرق کی وجہ سے کم تر جانا


‏آئرلینڈ میں ایک ہی نسل اور مذہب کے لوگوں نے عیسائیت کے دو فرقے بنا کر ایک دوسرے کا خون بہایا۔


اسلامی دنیا ان گنت بنیادوں پر منقسم اور منتشر ہوچکی ھے۔

ضرورت اس امر کی ھے کہ دوبارہ پیچھے مڑ کر دیکھا جائے اور سرکار دوعالمﷺ کے آخری خطبہ پر عمل کیا جائے۔


‏اسی میں ہمارے تیرہ و تار معاشرے کی نجات ھے


"مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا"


اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدنَا مُحَمَّدً وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدًا وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ بِعَدَدِ کُلِّ ذَرَّةٍ مِائَةَ اَلْفَ اَلْفِ مَرَّةٍ

🌸🌸🌸🌸🌸🌸


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32