وسوسہ و بھروسہ
وسوسہ و بھروسہ
اس بات کا ہر کوئی گلہ شکوہ اور شور و غوغا کرتا ہوا پایا جاتا ہے کہ، ہائے لٹ گئے اندھا اعتبار نہیں کرنا چاہئے، کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔دوسرے انسان کو خوب جانچ کر اور چھان پھٹک کر دیکھ لینا چاہئے۔
حالانکہ دیکھا گیا ہےکہ بس ،ٹرین،جہاز میں، ڈرائیور یا پائلٹ کا لائسنس دیکھے بنا سفر کرنا، حجام کے سامنے بیٹھ کر، آنکھیں بند کرکے شیو کروانا جبکہ وہ تلوار ہمارے نرخرے پر رکھے ہوتا ہے، ڈاکٹروں کی ٹیم کےسامنے لاش کی طرح بے حس و حرکت لیٹ جانا جبکہ وہ ہمارے اعضاء عمل جراحت سے چیر پھاڑ رہے ہوتے ہیں، سب اندھےاعتماد کی مثالیں ہیں۔
انسان کا تجربہ،مشاہدہ، اور جانچ پڑتال سبھی خام ہیں آخر میں ہمیں کسی نہ کسی پر آنکھ بند کرکےاعتبار کرنا ہی پڑتا ہے۔
ایمان اسی اعتبار کا نام ہے جو ہم نے صادق اور امین ذات عالی صفاتﷺ پر کیا اور بنادیکھے ہی باقی انبیاء، فرشتوں، قیامت، تقدیر، جنت دوزخ، حتی کہ اللہ پاک کی ذات کے ہونے کو صرف آپﷺ کے کہنے پر اعتبار کرکے مان لیا
صلی اللہ علی سیدنا و مولنا محمد و آلہ و واصحابہ وبارک وسلم ❤
Comments
Post a Comment