دیوانے کا خواب
وَاللّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللّهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ (انحل،72)
اور اللہ نے تمہارے واسطے تمہاری ہی جان سے عورتیں پیدا کیں اور تمہیں تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے دیے اور تمہیں کھانے کے لیے اچھی چیزیں دیں، پھر کیا جھوٹی باتیں تو مان لیتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ
( انحل،4)
اسی نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ(انسان) یکایک کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔
کائنات اور اس میں موجود مخلوقات اللہ ہی کی ہیں درجہ بندی اسی ذات وحدہ لا شریک نے بوسیلہ حضور سرور کائناتﷺ فرمائی۔
جب اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کو مان لیا تو اس درجہ بندی اور احکامات کو بھی لازماً ماننا پڑے گا۔
جیسا کہ حضرت علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے پہلوان کو پچھاڑ کر اور پھر اسے معاف فرماکر یہ ثابت کردیا کہ مخلوق کی طرف نہیں خالق کی طرف دھیان ہونا چاہئیے۔
انسانوں کے آپس میں حقوق و فرائض اور حدود و قیود بھی واضح کردی گئیں اور انسان کی اپنے ماحول اور دیگر جانداروں سے شرعی قوانین کے حصار میں رہتے ہوئے مستفید ہونے کے طریقے بھی سمجھا دئے گئے۔
فی زمانہ گنتی کے افراد زبانی اور ان سے بھی قلیل تعداد میں عملی طور پر ان احکامات پر کاربند ہوتے ہیں۔
لیکن میرا ایمان ہے کہ ایک دور ایسا ضرور آئے گا جب انسان بہت سمجھداری سے، کسی تعصب اور تنگ نظری میں پڑے بغیر اپنی مرضی سے آقائے دوعالمﷺ کی شریعت کو خالص علمی اور تحقیقی بنیادوں پر پرکھیں گے اور اس آفاقی نظام کی جامعیت ان پر آشکار ہوگی تو وہ ششدر رہ جائیں گے اور خالصتاً اپنی فلاح کے لئے دل و جان سے اپنائیں گے اور اپنے اوپر لاگو کرلیں گے۔
اس دور کی دنیاوی زندگی ایسی ہوگی کہ گویا جنت زمین پر اتر آئے گی۔
🌹
صلی اللہ علی سیدنا و مولنا محمد و آلہ و واصحابہ وبارک وسلم 🌹💞
صلی اللہ علیہ وسلم
ReplyDeleteصلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلّم
Delete