حسن و عشق
وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِنِّي (طه،٣٩)
اور ڈال دیا(پرتو) تم (موسی علیہ السلام) پر میں (اللہ) نے اپنی خاص محبت کا
وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ (یوسف، ٣١)
اور(محویت کے عالم میں) انھوں(مصر کی عورتوں) نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور( یک زبان ہوکر) کہنے لگیں، خدا کی قسم یہ انسان(کا حُسن) نہیں ہوسکتا
حسن و عشق ایسا موضوع ہے کہ جس کے چرچے زبان ذد خاص و عام ہیں۔ اور ان گنت کہانیاں ان سے وابستہ ہیں۔ اربوں انسان ان سے گھائل و مقتول ہوچکے اور ہر روز ان کے نام پر کاروبار عام ھے۔
حسن اور عشق کا ذکر سنتے ہی نسوانی حسن کے پروانے عشاق اپنا دل ہتھیلی پر رکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چونکہ یہ حسن عارضی اور طبعی تغیرات کے تابع ھے اس لئے عشق بھی جلد ہی دم توڑ جاتا ھے۔کبھی ان کے نام پر عزت نیلام ہوتی ھے تو کبھی معصومیت۔اور نسوانی حسن کے پرستار، جن کی محبت جنسی جبلت کے ختم ہوتے ہی دم توڑ جاتی ھے خوب جان لیں کہ یہ تو افزائش نسل کا قدرتی بہانہ ھے۔ جیسا کہ پھول کی خوبصورتی اس کی pollination کا بہانہ بنتی ھے ورنہ تو وہ پھول کسی سیج، گلے، یا قبر پر ڈلنے کے بعد سوکھ کر خاک ہوجاتے ہیں
لیکن ساتھیو! ایک محبت اور عشق وہ بھی ھے کہ جس کا خزانہ خود اللہ کے پاس ھے کیونکہ اس نے حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے اپنی ذاتی محبت میں سے تھوڑی تم پر ڈال دی تاکہ لوگ تم سے محبت رکھیں اور فرعون تمھیں اپنا بیٹا بنانے پر مجبور ہوجائے۔
ایک ایسا حسن بھی ھے جس کی ایک جھلک دیکھ کر نسوانی حسن نے بھی بے خود ہوکر اپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں اور بے اختیار بولیں کہ یہ انسانی حسن نہیں ہوسکتا۔ اورایک ذات عالی شان ایسی بھی ھے کہ حْسن کی تمام پاک صفات اس پر ختم ہیں، جس ہستی کی ایک جھلک پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا تمام مال و متاح، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار اپ کے قدموں میں ڈال دی۔ ابو جہل کی اندھی آنکھیں آپ کی دید نہ کرسکیں لیکن پتھر کی کنکریاں پہچان کر کلمہ پڑھنے لگیں.
بقول حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ:
وَأَحسَنُ مِنكَ لَم تَرَ قَطُّ عَيني
وَأَجمَلُ مِنكَ لَم تَلِدِ النِساءُ
خُلِقتَ مُبَرَّءً مِن كُلِّ عَيبٍ
كَأَنَّكَ قَد خُلِقتَ كَما تَشاءُ
Comments
Post a Comment