مواصلات ‏و ‏ترسیل ‏

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا (النّمل)

پھر (سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی ) کی بات پر مزاحاً متبسم ہوئے

بلاشبہ فی زمانہ مواصلات نے حیرت انگیز طور پر ترقی کرلی ھے. ہر طبقے، جنس اور عمر کا انسان اس کے حصار میں ھے، زمینی فاصلے اب کوئی معنی نہیں رکھتے۔ پیغام رسانی اب سانس کا طرع ہماری زندگیوں کاحصہ ھے۔ مگر ھم برقی آلات کے بغیر اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ کسی بھی point پر system faluire ہمیں معذور کرسکتا ھے اور کرتا رہتا ھے۔
اس ساری چکا چوند میں ھم نے اپنے پْرکھوں کا آزمودہ اور آلات اور ان کے نقائص سے مبرا نظام کہیں کھو دیا۔

ساتھیو میرا دھیان رہ رہ کر ان واقعات کی طرف چلا جاتا ھے جب ایک شیر خوار بچے نے یوسف علیہ السلام کی معصومیت کی گواہی دی، جب چیونٹی اور ہدہد نے اللہ جانے کونسی زبان میں سلیمان علیہ السلام سے گفتگو کی، جب ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے میں دور دراز کے ملک سے حاضر کردیا گیا۔ جب کھجور کا خشک تنا دھاڑیں مار کر رویا اور جب ایک اونٹنی نے رحمت اللعامین صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا فیصلہ کیا۔

"خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر"

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32