نیند ‏اور ‏خواب ‏

سکول میں یہ اس کا بمشکل تیسرا ہفتہ تھا جب اس کے استاد جی نے پانچویں جماعت(جو اس کی ننھی عمر میں اسے جنوں کی جماعت دکھائی پڑتی تھی )

کے لڑکے لڑکیوں کے درمیان کرسی پر بیٹھے بیٹھے اسے بلایا،

"ادھر آؤ پتری" ( وہ اسے یہی کہہ کر بلاتے تھے)

وہ ڈرتے جھجکتے آہستہ آہستہ رکتا چلتا وہاں پہنچا تو استاد جی نے پانچویں جماعت کی اردو کی کتاب سے اسے چند جملے پڑھنے کو کہا، جو اس نے ایسے آسانی اور مزے سے پڑھ دیے جیسے برف کا گولا چوس رہا ہو۔

استاد جی نہائت محبت اور فخر سے بولے،

" کیا ماں کے پیٹ میں بھی کتابیں پڑھتے تھے؟"

ساری جماعت ہنس پڑی اور وہ ناسمجھی، خوف، شرم اور جھجک سے تقريباً رو پڑا۔


اس واقعے کو بیتے ‏برسوں ہوئے کہ نیند اور خواب کے جھٹپٹے میں،،


ایک باریش ہیولے نے اسے قلم تھما کر

گرج دار آواز میں کہا،


"لکھ"!!!!


اس غیر مرئی حکم نامے کے رعب و دبدے سے

وہ آندھی میں پتے کی طرع تھراتا ہوا اٹھ بیٹھا۔



یہ ان دیکھا قلم اس کے قلب و روح میں ایسے سرائیت کر گیا جیسے خوشبو بخارات بن کر سانسوں میں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچپن سے پڑھے ہوئے حرف، ست رنگی روشنائی بن کر اس علامتی قلم کا حصہ بنتے گئے۔


پھر ایک دن اچانک کسی کے کورے کاغذ جیسے شفاف چہرے نے اسے اس روشنائی سے لفظوں کے بیل بوٹے بنانے پر مجبور کردیا۔


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32