پردہ اور پرائیویسی
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ
بتادیجئے!مومن مردوں کو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ
اور بتادئیجئے! مومن عورتوں کو کہ(وہ بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (النٌور٣٠،٣١)
فی زمانہ شخصی آزادی اور privacy کا بہت چرچا اور مقبولیت ھے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کے معاملات میں دخل در معقولات کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ھے۔
اس privacy culture نے انسان کو تنہائی کے مواقع فراہم کئے اور دوستو، حیا، شرم اور اس بات کی یقین دہانی کی سخت تربیت کے بغیر کہ ایک ذات ہے جو ہر جگہ موجود ہے اور دیکھ رہی ہے، تنہائی ایک زہر قاتل ھے اور جس کی ہلاکتوں کے نتائج آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔
جب تک ہم ان سنہری اصولوں کی کٹھن تربیت گاہ سے نہیں گزر جاتے، ہمیں privacy کو ترک کرکے پردے کےقلعہ و حصار میں رہنا ہوگا ورنہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور ایک دن ایسا آئے گا کہ عزتوں کے جنازے دفنانے والا بھی کوئی نہ بچے گا
" خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں"
Comments
Post a Comment