بارگاہِ ‏رومی ‏رح ‏میں ‏عرضداشت ‏

بادشاہِ فیض   و عرفاں   مِیر  اور مولائے  روم 
معرفت کے  دریا ہیں  اور  بے کراں بحرِ  علوم

بادشاہ گر  ہے نظر  اور  نور کا چشمہ مزار
ریت کے اِس ذرے کو کر دیجئے رشکِ نجوم

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32