Posts

Showing posts from November, 2023

غزل 34

رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہے  دل کہ ہے برباد اور آباد بھی ہے  چاند ہے یا ہے کوئی ارمان نکلا چاندنی ہے اور کوئی افتاد بھی ہے ایک تو یہ حکم ہے دیکھوں نہ ان کو  اور اس پر شعر کا ارشاد بھی ہے  ہاتھ نے چھوڑا ہے اور آنکھوں نے جکڑا  قید میں بھی ہے  مگر آزاد بھی ہے ساتھ بھی ہے اور مجھ سے دور بھی ہے  خواب جیسا  ہے ، مرا ہمزاد بھی ہے  بے رخی سے مار دے، چُھو کر جِلائے  وہ مسیحا بھی ہے اور جلاد بھی ہے  اس زمانے سے عجب رشتہ ہے میرا  گو کہ دشمن ہے ، مگر استاد بھی ہے