Posts

Showing posts from December, 2025

خیالات و افکار

  سخن ور کے لئے خیالات و افکار ایسے ہی ہیں جیسے کسی طفل کے لئے تتلیاں، جب بھی کوئی خیال اپنے انوکھے رنگوں سمیت جھلک دکھلاتا ہے تو مفکر و سخن ور کا اندرونی طفل اس کے پیچھے بے اختیار لپکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسمانی نقل و حرکت اگر پوری طرح جامد نہیں ہوتی تو سست ضرور پڑتی ہے۔ اُدھر حقیقت کی دنیا کے اپنے ٹھوس مسائل ہیں جو حاضر دماغی اور جسمانی چستی کے متقاضی ہیں۔ نتیجتاً ، تخلیق کار کو اپنی تخلیقات کی وہ قیمت چکانی پڑتی ہے جس کا ادراک ایک تخلیق کار کے علاوہ شاید ہی کوئی رکھتا ہو۔ "میرے اشعار مرے رتجگوں کی قیمت ہیں مفت پڑھنا بھی جنہیں کوئی گوارا نہ کرے "

حُسین علیہ السلام

Image
  غالباً انسان کا خوبصورت اور جاذب ترین رُوپ اس کا کسی غاصب و جابر کے خلاف باغی کا یا آزادی کے جنجگو کا ہوتا ہے۔ ‏وہ Spartacus ہو یا Joan of Arc، ‏William Wallace ہو یا Martin Luther King، ‏سلطان ٹیپو ہو یا بھگت سنگھ ، ‏چی گویرا ہو یا بھنڈرانوالا، ‏نیلسن منڈیلا ہو یا ملا عمر ، ‏ان میں سے ہر ایک آئینے کے چمکدار رخ کی طرح ، تاریخ کے روشن پہلو ہیں۔ ‏آخر کیا وجہ ہے کہ حقیقی زندگی ہو یا افسانوی کردار ، بہادر، باغی اور سورما ہمیشہ ہر ایک کے دل میں گھر کرلیتا ہے؟ ‏بہت سی وجوہات ہونگی مگر جو میرے دل نے مانی وہ یہ ہے کہ ان سب کے سردار ، امام اور باشاہ ، ‏سیّدی و سیّدُکم، جنابِ حُسین علیہ السلام ہیں جن کا ایک اسم ِ پاک شبّیر (حسِین ترین مرد) بھی ہے۔ ‏آپ کے انکار و استقامت کے ہزار پہلو، ہزار وجوہات، ہزار حکمتیں اور ہزار اسباق ہونگے اور ہیں ‏البتہ جو سب سے نمایاں اور ممتاز پہلو ہے وہ یہ کہ بہادر سے بہادر انسان کو ، اس کے پیاروں کے گزند سے خوفزدہ کرکے توڑا جاسکتا ہے۔ ‏فسطائی اور جابر حکمران صدیوں سے آج تک یہ ہتھکنڈے استعمال کرتے آئے ہیں ۔ ‏لیکن سیدنا حسین علیہ السلام خود ہی اپنی ہر ...

جنگل میں اک ناچا مور

  جنگل میں اک ناچا مور ‏جنگل میں تھا شور ہی شور پتّوں کی تھیں سائیں سائیں ‏کوَّں کی تھیں کائیں کائیں گیدڑ کی تھی چیخ پُکار ‏اُلّو کی تھی سوچ بچار بندر، بھالُو، لگّڑ بھگّے ‏مینڈک، جھینگر، مچھر، کیڑے ‏ مگر مچھ ، دریائی گھوڑے ‏ہاتھی ، ہرنی، شیر اور چِیتے مگن تھے سارے اپنی دُھن میں ‏مور کو دیکھیں کس کی آنکھیں؟ ناچتے ناچتے چُور ہوا وہ ‏چُور ہوا، رنجُور ہوا وہ اس کے پیر تھے لہُو لہان ‏تھک کر اُس نے دے دی جان جنگل میں تھا شور ہی شور ‏دیکھا کس نے ناچتا مور؟

Alliteration

  ‏اردو شاعری میں بحر و قافیہ ردیف کی مانند ہی ‏انگریزی شعریات میں alliteration کی بڑی اہمیت ہے۔ ‏Alliteration ‏انگریزی شاعری میں الفاظ کی ابتدائی آوازوں کی تکرار کو کہتے ہیں۔ ‏مثلاً شیکسپئیر کے ٹیمپسٹ میں ‏ “Full fathom five thy father lies” ‏ایس ٹی کولریج کا ‏The fair breeze blew, the white foam flew” ‏ اور ایڈگر ایلن کا ‏“While I nodded, nearly napping” ‏ وغیرہ ‏اس خاکسار نے اپنی اردو شاعری اور نثر میں جابجا اور بے اختیار اس کا استعمال کیا ہے۔ ‏مثلاْ: ‏“جلتے جلتے جم جاتا ہے تیکھا تیل تخیل کا ‏بجھتے بجھتے بھڑکے پھر سے شعلہ شوخ خیالوں کا” ‏“شہرِ الفت کو جو جاتے ہو تو جانو کہ وہاں ‏ ‏کر گزرتے ہیں، خسارا نہیں پوچھا کرتے” ‏“چاندنی، چال تری چل کے افق پر پھیلی ‏ ‏روشنی، رُوپ میں رس بس کے گھروں تک آئی” ‏“مرے تخیل میں آن بیٹھا کسی تصور کا ایک پرتو ‏کسی مصورنےاپنے فن سے دئے ہیں جس میں اتارجگنو” ‏“ہو تجھ پہ عیاں کیسے بھلا حرف حقیقت ؟ ‏ہندسوں کا ہدف ہے ترے حالات پہ حاوی” ‏“پتّے ہیں پیڑ پر کہ ہے پریوں کا پیرہن؟ ‏بدلی ہوئی ہے رُت یا ہے میلہ لگا ہوا ؟”

‏ماں جائی

  ‏روشن ہے دیِا دل میں تری یادوں سے جھُلسا ہے جگر میرا جلے خوابوں سے ‏آتی تھی مہک ماں کی ترے آنچل سے ‏رِستا ہے لہو تیرا مرے زخموں سے ‏

دِل

  خدائی راز ہے یہ دِل ادائے ناز سے بِسمِل کہ ذکرِ یار سے کامِل جفائے کار میں شاِمل کسی کی یاد سے جھِلمِل انوکھے دیس کا ساحِل کہ چشمِ عشق کا یہ تِل خودی لیلیٰ خودی محمِل سدا تنہائی پر مائِل سجائے درد کی محفل کہ اپنا آپ ہی حاصِل ہے اپنی آپ ہی منزِل

ایمان:

  ‏ اِبلاغ و رسائل کا مُحتاج نہیں ‏اسباب و وسائل کا مُحتاج نہیں ‏ایمان مرے رب کی عطا ہے راشد ‏ایمان، دلائل کا مُحتاج نہیں

حد کے اندر ہے بے حد

  وضو توڑ دینے والے عوامل پر غور کریں، بادِ شکم اور جسمانی رطوبات کے قلیل سے اخراج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، ‏حالانکہ وضو ہوتے ہوئے ، مقدس ترین مقامات پر اعلیٰ ترین عبادات کے دوران جسم کے اندر انہی مواد کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے۔ ‏انہی رطوبات سے جسمانی نظام رواں دواں اور حیاتِ انسانی قائم و دائم ہے۔ مگر تصور کریں کہ کسی اہم تقریب میں کسی ملک کے سربراہ یا کسی ذی وقار شخصیت کے رُخ پر لعابِ دہن یا ناک کی رطوبت کے چند قطرے لگیں ہوں یا اس کے صاف ستھرے لباس کے دامن پر اسی کے پیٹ میں پائی جانے والی گندگی کا دھبہ ہو تو کیا ہو۔ ‏ ‏تو ثابت ہوا کہ سارا راز حد کے اندر رہنے یا حد کو پار کرنے میں ہے۔ ‏ہمارے فاسد خیالات اور الفاظ کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ ‏جب تک وہ ہمارے ذہن و زبان کی حد میں رہتے ہیں، ہماری شخصیت کا بھرم قائم رہتا ہے۔ جیسے ہی زبان و قلم سے ادا ہوجائیں، ہمارے اخلاق و شائستگی کی عمارت میں بدنما دراڑ پڑ جاتی ہے۔ ‏اس سے ایک اور قدم آگے بڑھیں تو ہم پر یہ امر آشکار ہوتا ہے کہ خیالات و تصورات ہمارے باطن میں بھی اپنی حدود کے اندر رہنے چاہئیں۔ ‏جیسے کہ سمندروں میں بھی دریا یا رو (curr...

کاگا رُوٹھے، پیڑ سُوکھے

  انا جی کا کھُوہ کیا تھا، گھنے سبز درختوں اور ان میں بستے رنگا رنگ پرندوں سے مزین ایک جھوٹی سی جنت تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نانا جی کا پنجاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سانس لیتا تھا اور تقسیم کی لکیر ابھی اس کے ماتھے پر نقش نہیں ہوئی تھی۔ دریاؤں کی لہریں نرم ہوا سے سرگوشیاں کرتیں، نہروں کے کنارے سرکنڈے جھومتے، پیپل، برگد، شیشم، کیکر، آم، جامن، بیری، نیم، ڈھاک شریں اور پھلائی جیسے درخت اپنی چھاؤں میں صدیوں کی کہانیاں کہتے۔ انہی درختوں کی ڈالیوں، کھیتوں کی منڈیروں اور دریاؤں کے دوآبوں میں، پرندوں کی ایک رنگین دنیا آباد تھی۔ ایسی دنیا جو فجر کی اذان سے پہلے ہی حمد و ثنا کا نغمہ بلند کر دیتی اور شام کو لوک گیتوں کی طرح اچانک شوخ ہوکر آہستہ آہستہ مدھم ہو جاتی۔ پہاڑی ڈھلانوں پر چکور پتھروں کی اوٹ میں پلتا، بھورا سا وجود چٹانوں سے یوں گھل مل جاتا جیسے فطرت نے اسے وہیں تراشا ہو۔ کھیتوں کی نرم مٹی میں بٹیر ، تیتر اور تلیر شرمیلے شاعروں کی طرح دانہ چگتے، اچانک اڑان بھرتے اور اپنی تیز مگر مختصر پکار سے صبح کو جگا دیتے۔ جنگل کے کھلے میدان میں مور اپنے رنگین پر پھیلا کر ناچتا تو...