Posts

Showing posts from September, 2025

اُن کو جو والہانہ محبت نہیں رہی

  اُن     کو   جو    والہانہ   محبت   نہیں   رہی ہم     کو   بھی   زندگی   کی   ضرورت   نہیں   رہی   دل   میں   کسی     نگاہ   سے     سُلگا   تھا     عودِ   عشق   بدلی   جو   وہ     نگاہ   تو   حدت   نہیں   رہی   جذبوں   کے   امتزاج   سے   رنگین   تھی   حیات اب   خواب   دیکھنے     کی   بھی   چاہت   نہیں   رہی   دنیا   ہے   والدین   کے   ہوتے   ہوئے     بہشت   دوزخ   ہے،     جن   کے   پاس   یہ   جنت   نہیں   رہی آتے     ہیں   چل   کے   آپ   یہ     اشعار   اپنے     پاس ہم   کو   تو   بھاگ   دوڑ   کی   عادت   نہیں   رہی   خالی   ہوا ...

غزہ

 مانواں   دُکھ  جر ، جمن ربّا ! ‏دنیا دُکھ  دے  مارے  ‏تیریاں توئیوں جانے ، ربّا ! ‏تیرے رنگ نیارے  ‏پتھر دے اک کوٹھے پاروں ‏ہاتھی دُھوڑ بنائے ‏ریشم ورگے بال نمانے  ‏پتھراں ہیٹھ پِسائے  ‏توں تے بے پرواہ ایں مالک  ‏بندے کیوں پتھرائے؟ ‏توں تے سب دا شاہ ایں مالک ‏پُتلے  کیوں مچھرائے ؟

ہاہڑا ای اوئے

‏ ‏عرباں نے منہ موڑ لیا اے  ‏کھرباں نے منہ موڑ لیا اے  ‏جگ نے ای منہ موڑ لیا اے  ‏سب نے ای منہ موڑ لیا اے ‏غازا ولّوں انج لگدا اے  ‏رب نے ای منہ موڑ لیا اے ‏غازا ایس صدی دا کربل ‏سب مُلکاں نوں پے گئی دندل ‏لکّھاں اصغر ، اکبر ، زینب  ‏مَر دے ، ہَر دے ، جَر دے ، پَل پَل  ‏گَل دا حل کوئی لب نئیں ہوندا ‏ہَڑ سوچاں دا دَب نئیں ہوندا  ‏تگڑے دے نیں سارے یارو  ‏ماڑے دا تے رب نئیں  ہوندا 

دو سانپ، دو زندگیاں

  پچھلی کہانی میں آپ حکیم عظمت اللّٰہ صاحب کے متعلق جان ہی چکے ہیں کہ  وہ مریض کو دیکھ کر ہی اس کی بیماری اور علاج کے متعلق بتا دیا کرتے تھے۔  نانا جی کا کُھوہ چونکہ جالندھر کے قریب تھا اور بیل گاڑیوں کے گزرنے کی کچی سڑک کے کنارے پر تھا، اس لئے اکثر ایسے مسافر وہاں آکر رکتے تھے جو کسی نہ کسی مریض کو جالندھر میں حکیم صاحب کے پاس یا تو لے کر جارہے ہوتے تھے یا وہاں سے واپس آ رہے ہوتے۔  نانا جی پہلی جنگِ عظیم سے ذرا پہلے پیدا ہوئے غالباً 13-1912 کے لگ بھگ کیونکہ تحریکِ خلافت کے عروج کے وقت (21-1920میں ), وہ پہلی یا دوسری جماعت میں تھے۔ اور شفیق رام پوری صاحب کی یہ نظم اپنے ہم جماعت لڑکوں کے ساتھ مل کر جوش و خروش سے پڑھا کرتے تھے: “بولیں اماں محمد علیؔ کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو ساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھی جان بیٹا خلافت پہ دے دو” ناناجی کے پانچ بچے تھے۔ تین بیٹے  (میرے ماموں) اور دو بیٹیاں (میری امی اور میری خالہ )  تقسیمِ ہند سے قبل نانا جی کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں  پاکستان میں پیدا ہوئیں۔  پہلوٹھی کا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام عل...

ڈرپوک

پچھلی کہانی میں آپ نانا جی کے کُھوہ کا احوال بالتفصیل سُن چکے ہیں۔ نانا جی تین بھائیوں میں سے درمیانے بھائی تھے اور ان کی تین ہی بہنیں تھیں۔  ان کے بڑے بھائی میرے دادا جی بھی ہیں۔  میرے پردادا اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے اور جالندھر میں واقع ایک  چھوٹے سے گاؤں کے نمبردار تھے۔  اپنے ہم عصروں کے لحاظ سے پردادا جی کا قد قدرے لمبا اور رنگ نسبتاً صاف  تھا۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت گہری سبز آنکھیں تھیں۔  جب میں چھوٹا تھا تو وہ سب جنہوں نے پردادا جی کو دیکھ رکھا تھا، کہا کرتے تھے کہ میں ہُو بہُو اُن جیسا دکھائی دیتا ہُوں۔  میرے نانا جی اپنے آخری ایام تک ،  چھریرے بدن کے پُھرتیلے ،  سخت محنتی ، بیزاری کی حد تک ایماندار، باکردار ،بے باک  اور صاف گو انسان تھے۔  تصور کیا جاسکتا ہےکہ نوجوانی میں وہ کسی چیتے کی طرح چابک دست ہونگے۔  اپنے لڑکپن کی ایک دوپہر وہ کھیتوں میں ہل چلاکر بیلوں کی جوڑی ،جن میں سے ایک  کا نام چِینا اوردوسرے کا چِٹّاتھا، کو پانی پلانے کے بعد باندھ کر نہانے کا ارادہ کر ہی کر رہے تھے کہ  بیل گاڑی پر ایک ادھیڑ عمر ا...

بلوری گولی

 بلوری گولی : ———— جیسا کہ آپ جان ہی چکے ہیں کہ ناناجی کا گاؤں، جالندھر شہر کے نواح میں تھا۔ اس زمانے میں میڈیکل ڈاکٹر تو قریب قریب ناپید تھ اور شاید بڑے شہروں اور امیر لوگوں کو میسر تھے البتہ طبی حکماء کرام وافر تھے۔ جالندھر میں ایک مشہور حکیم عظمت اللّٰہ صاحب تھے جن کے پاس دُور دراز کے علاقوں سے مایوس مریضوں کو لایا جاتا تھا۔ ناناجی بتاتے ہیں کہ حکیم صاحب مریض کا چہرہ دیکھ کر ہی  بتا دیا کرتے تھے کہ علاج ان کے بس میں ہے یا کہ نہیں۔ قابلِ علاج مریض ان کی دوائی سے شفایاب ہوجاتا اور جس مریض کا علاج ان کے پاس نہ ہوتا اس کے لواحقین سمجھ جاتے کہ یہ مریض کے لئے  پیغامِ اجل ہے۔ اس زمانے میں مریضوں کو چارپائی پر ڈال لے جایا جاتا تھا۔ حکیم صاحب اگر اسی یا قریبی گاؤں میں ہوتے تو چارپائی کو دو چار لوگ اٹھا کر لے جاتے اور اگر دُور جانا ہوتا تو چارپائی بیل گاڑی پر رکھ کر لے جائی جاتی۔  کاتک (اکتوبر نومبر کے قریب کا مہینہ) کسانوں کے لئے انتہائی مصروف مہینہ ہوتا تھا۔  پنجابی کا محاورہ  “کَتّے دا کَس” (کاتک کا بخار یا کاتک کی مصروفیت ) اسی مصروف ماہ کی بہ نسبت ہے۔ یعنی ان...