Posts

Showing posts from November, 2024

جنابِ غالب کی زمین میں ایک غزل

کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں باطن میں کائنات سے کم تر نہیں ہُوں مَیں اے آفتاب ! گرمئِ عشقِ حبیب میں  تُجھ سے سِوا ہوں، تیرے برابر نہیں ہُوں مَیں تاریکیوں کے درمیاں جلتا ہوا چراغ  راتوں کی داستان ہوں، دن بھر نہیں ہُوں مَیں اپنے ہی حُسن کے لئے خود ہی ہُوا حجاب  جانے سے جاودان ہوں، ہو کر نہیں ہُوں مَیں دیکھے یہ صبح و شام، ہزاروں طرح کے رنگ  افسوس! اپنی آنکھ کا منظر نہیں ہُوں مَیں دل میں بسا کے اُن کو تو  دل اُن کو دے دیا  باہر ضرور ہُوں مگر اندر نہیں ہُوں مَیں  30 نومبر 2024

شافع محشر ﷺ:

الاماں! وہ   سماں قیامت کا قہر و رنج و فغاں قیامت کا نفسی نفسی پکارتا ہوگا ہر کوئی دُھول میں اٹا ہوگا نظریں اپنوں سے سب چرائیں گے “ کوئی  نیکی نہ مانگے” سوچیں گے ماں سے بیٹا کہ چھپ رہا ہوگا ماں نہ پوچھے گی حال بیٹے کا بھائی بھائی سے بھاگتا ہوگا باپ  دھتکارے گا سگا بیٹا  کام اپنے نہ کوئی آئیں گے انبیا تک  پناہ مانگیں  گے سب کے  اعضا سبھی دغا دیں گے ہر گواہی وہ برملا  دیں گے  حق تو  یہ  ہے کہ بے وفا ہوگا  پیارا دنیا میں جو رہا ہوگا ایک ہی خوف ڈس رہا ہوگا  آج  انجام جانے کیا ہوگا ہاں مگر ایک آسرا ہوگا جو کہ محشر میں  باوفا ہوگا بن کے برسے گا ابر رحمت کا دُور کردے گا خوف اُمّت کا سید المرسلین ﷺ ہونگے وہ رحمتِ عالمین ﷺ ہوں گے وہ

مناجات

تُو میرا آسرا ہے یا خدایا کہ لب پر مدعا ہے یا خدایا دو عالم کی مجھے حسنات دے دے نبی ﷺ کا واسطہ ہے یا خدایا مرے اجداد کو بخشش عطا کر مری اولاد کو عشق آشنا کر قیامت تک کی میری ہر نسل کو  غلامِ بادشاہِ انبیا ﷺ کر نظر کی دھار کو تلوار کردے مرے گِرداب کو پتوار کردے تُو ہر پل جاگتا ہے میرے مالک  مقدر اُونگھتا بیدار کردے مرے دل کو محبت کا دِیا کر مری آلودگی ، صدق و صفا کر  مرے کُنبے کو رحمت میں چھپا لے  مرے گھر کو غلامِ مصطفیٰ ﷺ کر میں عاجز ہُوں، تُو قادر یا خدایا میں عاصی ہُوں، تُو اکبر یا خدایا میں تیرے واسطے ہُوں اشک لایا ان اشکوں کو گُہر کر یا خدایا ولایت کا مجھے تمغہ عطا کر شہادت کا مجھے رتبہ عطا کر تُو چاہے تو گدا کو شاہ کردے محبت کا مجھے جرعہ عطا کر نبی ﷺ کے عاشقوں میں کر دے شامِل  انہی ﷺ کی چاہ رکھے مجھ کو بسمل زمیں سے آسماں کردے خدایا  کہ رشکِ عرش ہو جائے مرا دِل #حرفِ_راشد

لبیک اللہم لبیک

گم سم اور حیران کھڑا ہوں تیرے در پر آن کھڑا ہوں اپنی غلطی مان کھڑا ہوں  اک نادم انسان کھڑا ہوں یا ارحم رحمان خدایا  پورے کر ارمان خدایا   میرا تو ہی مان خدایا   تجھ پر ہے ایمان خدایا مجھ کو تُو ہر آن عطا کر اپنے در سے دان عطا کر بخشش کا سامان عطا کر خود اپنی پہچان عطا کر اشکوں سے نمناک نگاہیں مجھ کو دے دے پاک نگاہیں مومن اور بے باک نگاہیں دشمن پر ہوں دھاک نگاہیں  عاجز کی توقیر بڑھا دے راشد کی تقدیر سجا دے قاصر کی تقصیر مٹا دے  دل اپنی جاگیر بنا دے

‏کسی بچھڑ جانے والے کے نام

مجھے یاد ہے وہ ملاقات پہلی  جو فرمائی  تُو نے  وہی بات پہلی "نرے خام ہو اور پر تولتے ہو  کہ ساحل سے موج و بھنور تولتے ہو کتابوں میں چاہت کی بُو سونگھتے ہو کناروں پہ لعل و گہر ڈھونڈتے ہو ابھی عشق کے تم نے قصے سُنے ہیں ابھی  راہ سے  پھُول پتّے چُنے ہیں رموزِ  وفا سے  شناسا نہیں ہو  تماشائی ہو پر تماشا نہیں ہو    چلے جاؤ واپس کہ عاشق  نہیں  تم  تجسس سے پُر اور حیرت میں ہو گم چلے  آنا تب تم کو  ٹھوکر لگی جب  چلے آنا جب  دل پہ  دستک ہوئی تب “ چلا آیا میں جو   ابھی بے سبب تھا  یونہی  منحصر گردشِ روز و شب تھا  اسی کشمکش میں گزرتے گئے دن کہ جیون کے گیہوں  کترتے گئے دن   کسی دن اچانک کہیں جا گرا میں  اٹھا تو کسی اور عالم میں تھا میں وہاں  اپنی سرحد سے باہر کھڑا تھا میں کون اور کیوں ہُوں، کھڑا  سوچتا تھا  جہاں تھم گیا تھا، زماں تھم گیا تھا  کسی ایک نقطے پہ دل جم گیا تھا    زمین و زمان و زمن کس لئے ہیں؟ یہ گہوارے ، سہرے ، کفن ، کس لئے ...