التفاتِ دوست ہے جو سب طبق ہیں محوِ رقص ضبط و بندھن کے پڑھے سارے سبق ہیں محوِ رقص رنگیں پیارے حرفوں سے لکھا ہے تیرے حُلیے کو جس کے رعبِ حسن سے لرزاں ورق ہیں محوِ رقص حسن کی بے اعتنائی کا بھرم یوں کھل گیا جو جبینِ ماہ پر اتنے عرق ہیں محوِ رقص چشمِ ظاہر نے تو دیکھا آدمی مسکین سا سر جھکائے بیٹھا ہے اور دل میں برق ہیں محوِ رقص غم نہیں جو ڈھل گیا دن، شب کی آمد کا نہ خوف وہ سحابِ شام بس پہنے شفق ہیں محوِ رقص طعن و تشنیع و ملامت، مدحت و الفت کے پار ماورائے سنگ و گُل مستغرق ہیں محوِ رقص