Posts

Showing posts from February, 2022

ایک شعر

یقینًا گنہ گار شاید ہوں شاعر  مگر سر بہ سر ہوں میں خاکِ مدینہ 

اولین کاوشوں میں سے ایک

التفاتِ دوست ہے جو سب طبق ہیں محوِ رقص ضبط و بندھن کے پڑھے سارے سبق ہیں محوِ رقص رنگیں پیارے حرفوں سے لکھا ہے تیرے حُلیے کو جس کے رعبِ حسن سے لرزاں ورق ہیں محوِ رقص حسن کی بے اعتنائی کا بھرم یوں کھل گیا جو جبینِ ماہ پر اتنے عرق ہیں محوِ رقص چشمِ ظاہر نے تو دیکھا آدمی مسکین سا سر جھکائے بیٹھا ہے اور دل میں برق ہیں محوِ رقص غم نہیں جو ڈھل گیا دن، شب کی آمد کا نہ خوف وہ سحابِ شام بس پہنے شفق ہیں محوِ رقص طعن و تشنیع و ملامت، مدحت و الفت کے پار ماورائے سنگ و گُل مستغرق ہیں محوِ رقص

وجدان

‏ کبھی کبھار مرا وجدانِ بے باک میرے  تنِ ناتواں کی خاک اڑا کے لمحوں میں کئی صدیوں کا سفر کرتا ہوا  ابو ایوب انصاریؓ  کے درخشاں گھر  کی جانب نازاں و خراماں بڑھتی   خوش نصیب قصواء کے  مبارک قدموں میں بچھا کے  جاوداں کر دیتا ہے           

نعتیہ شعر

بِن آپﷺ کے نہیں ہے سہارا میرے حضورﷺ بِن آپﷺ کے نہ کوئی  ہمارا میرے حضورﷺ 

غزل 32

خود اپنا ہوش کنارے پہ دھر کے دیکھا ہے  جنُوں کے بحر میں گہرا اُتر کے دیکھا ہے  ہر ایک بات پہ مرنے کا دعوٰی کرتے ہو  بھلا بتاؤ کبھی تم نے مر کے دیکھا ہے؟   ہوا یقین انھیں حسن کی حقیقت کا جو خود کو آئینے میں بن سنور کے دیکھا ہے   کبھی حقیقتیں بھی ریت کا محل ٹھہریں  کبھی خیال سبھی رنگ بھر کے دیکھا ہے   زمانہ روندتا ہے اپنے پاؤں کے نیچے  تماشا جابجا میں نے ٹھہر کے دیکھا ہے

غزل 31

سُر سے عاری شعر سے بیگانہ ہوں  عقل سے پیدل میں اک دیوانہ ہوں  رات کی تنہائی میں خود ایک بزم  اور بھری محفل میں اک ویرانہ ہوں  شمع جانیں مجھ کوپروانے مگر  جل رہا ہوں شمع کا پروانہ ہوں  متقی سمجھیں مجھے مے خوار ہے  رند دھتکاریں کہ میں فرزانہ ہوں  پکا سچا جانیں ہیں راشد کو سب  کچی پنسل سے لکھا افسانہ ہوں

غزل 30

شام تو اک دھوکا ہے  دن کہیں اور نکلا ہے  چشمِ دل کی پلکوں میں  یادوں کا اشک اٹکا ہے  جتنا برتن خالی ہو  اتنا ہی وہ بجتا ہے   آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں  دل میں جو جو ہوتا ہے   جھٹ بدلتے لوگوں کو  ہم نے اکثر دیکھا ہے   اپنے چہرے دِکھتے ہیں  دنیا اک آئینہ ہے

غزل 2

ہو سکتا ہے وہ بات دہرائی جائے  اسی بات کے خوف سے اٹھ کے آئے  غمِ زندگی ہے نہ ہی دردِ دل اب  عجب بے حِسی بے رخی کے ہیں سائے  ترے چپکے گھر کو ترنم نے گھیرا  مرے چیختے شہر میں قہر چھائے  ہے انسان خمسہ حواسوں کا قیدی  گئے وقت کی یاد کو چھو نہ پائے  کیا یہ ستم ہے کئی ہیرے پیارے  انھی خالی ہاتھوں زمیں میں دبائے  ستم گر کی یادوں نے راشد کے دل کو  ہے یوں آج گھیرا کہ بس ہائے ہائے

غزل 29

وا ہوں تو منتظر تری آنکھیں ہیں  جو موند لوں تو دل مری آنکھیں ہیں    ناظر نظارہ ایک ہوئے دونوں  تیری ہیں یا کہ شیشے کی آنکھیں ہیں  لگتا ہے ہم دو ایک ہی ہوتے تھے  ویسے ہی سپنے ایک سی آنکھیں ہیں  پل بھر میں من کی روشنی بجھتی ہے  مرشد کی جب بھی روٹھتی آنکھیں ہیں  راشد کا دل، نگہ کی حرارت سے  پگھلا ہوا اور اشکئی آنکھیں ہیں

حق و باطل

بیٹے کی طرح موسیٰ کو پالا کس نے؟  دریا میں فرعون ڈبویا کس نے؟  دیں کے سر کش کی سر کوبی کے لئے  کی لوگوں کے جذبات کی پروا کس نے؟  جب ہو اللہ کی رضا پیشِ نظر  مخلوق کے ارمانوں کو دیکھا کس نے؟  ابرہا جو چلا کعبے کو کرنے مسمار  اس کا لشکر بھوسہ بنایا کس نے؟  نمرود کو دعوی تھا خدا ہونے کا  سَر اس کا سرِ خاک ملایا کس نے؟  اپنے نانا کے دیں کی رفعت کے لئے  کربل میں لٹا دی اپنی دنیا کس نے؟  پھرنا نہیں راشد سرِ مُو سچ سے  اب سانس ہے جاری، کل دیکھا کس نے؟ 

ایک قطعہ

ہر شخص نے ہاتھ میں پتھر ہے اٹھا رکھا  درویشِ خود مست نے بھی سر ہے اٹھا رکھا  ہر ایک کی نوکِ لساں پر ہیں تیر و تفنگ  تیرے تو لہجے ہی نے خنجر ہے اٹھا رکھا

استھما Asthma

کہتے ہیں یہ روگ ترکے میں ہے ملتا !!!  سینے میں سانسیں دل میں چہرہ اٹکا!!!  تو کیا میرے سینے میں سانس اٹکی ہے!!!  یا ماں کے سہے دکھوں کی پھانس اٹکی ہے!!

بخشش

طفیل آقاﷺ کے ہو جائے گی بدکاروں کی بخشش  خطا کاروں گنہ گاروں تو بے چاروں کی بخشش  وفا دارِ نبیﷺ ہونے ہی کا سکہ چلے گا  ہو سکے گی نہیں آقاﷺ کے غداروں کی بخشش

غزل 28

اس نشے میں بھی ہوش رہتا ہے  من میں اک خرقہ پوش رہتا ہے  اس کے اندر کئی صدائیں ہیں  جس کا باہر خموش رہتا ہے  بس گیا ہوں مکان پختہ میں  خانہ پھر بھی بدوش رہتا ہے  بھا گیا ہے ملامتی فرقہ  نیکیوں کا بھی دوش رہتا ہے  آتا رہتا تھا تُو خیالوں میں  اب تو اکثر رو پوش رہتا ہے  مہکا رہتا ہے اس کا گھر سارا  ساتھ اک گُل فروش رہتا ہے

غزل 27

سر چڑھ کے بولتا ہے یہ جادو نہیں رکے  روکو گے بھی تو عشق کی خوشبو نہیں رکے ہر جا سنائی دی صدا مرشد سے پیار کی  سیّد کے پاؤں میں پڑے گھگرُو نہیں رکے  اک عمر سے ہے دل مرا ان کی گلی گیا  برسوں ہوئے کہ آنکھوں سے آنسو نہیں رکے  دردِ فراق ہو یا ہوں غم اقتصاد کے  اڑ جائے نیند سیج پہ پہلو نہیں رکے  رات اور دن کا دائرہ ہانکے چلے ہمیں  رک جائے خوں رگوں میں، یہ کولہو نہیں رکے  جیسا بھی ہے قلم اسے راشد نہ چھوڑنا  جب تک ہے سانس، خدمتِ اردُو نہیں رکے   

بیٹی کی سالگرہ پر

میری بیٹی مجھے تم سے بڑی الفت ہے  یہ دو جہانوں کے سردارﷺ کی سنت ہے  لفظ جو جو ہیں محبت کے لئے بولے گئے  سب یکجا ہوں تو بنتی تیری صورت ہے  شفقتِ پدری کا کوئی سِرا پا نہیں سکتا  اس کے سوا جس کو یہ ملی رحمت ہے  گھیر لے تجھ کو دائم ایمان اور خوشی  اور ہر ہر نعمت جو کہ باعثِ رحمت ہے  اللہ کرے تیرا دل پا لے اس کا عشق  وہ خاتونِ پاک جو خانمِ جنت ہے  یا خدا دے آقائے دو عالمﷺ کے طفیل  ہر بیٹی کو نصیب اچھا ، یہی حسرت ہے

چاہت

انﷺ کی ہے یہ چاہت کہ میں چاہوں انﷺ کو  ہے کیا مری وقعت کہ میں چاہوں انﷺ کو؟  خود وہﷺ جسے چاہیں وہی چاہے انﷺ کو  اللہ تری قدرت کہ میں چاہوں انﷺ کو 

آدم اور فرشتے

معراج میں روحِ امین کو پر کی فکر ہوئی ہجرت کی رات علی ؓ کو نہ سر کی فکر ہوئی  سبھی کچھ ہی رسولِ پاکﷺ کے قدموں میں لا رکھا  صدیق ؓ کو لمحہ بھر بھی نہ گھر کی فکر ہوئی  ادراک مقامِ عشق کا نوری نہ کر سکے  یہ سبب ہے جو انھیں خَلقِ بشر کی فکر ہوئی

دھوپ چھاؤں

کل میری ماں کی برسی تھی  جنم آج ہوا تھا بیٹے کا  اس دھوپ چھاوں سے جیون میں  میں گم سم اور حیران کھڑا

خلفائے راشدین

جمال ہے صدیق ؓ اور عمر ؓ ہے جلال ِ نبیﷺ  عثمان ؓ حیا کی ادا اور مرتضی ؓ حالِ نبیﷺ   چاروں ہی دوست ؓ ہیں چمنِ رحمتﷺ کے پھول   خلفائے ؓ رسولِ امیںﷺ، جلوہ ءِ کمالِ نبیﷺ

مسلم اخوت

اپنے سامنے اپنے بھائی کو کٹتا دیکھوں  چیخوں چلاؤں مگر دستِ قاتل کو نہ روکوں  میرے اس سب چیخنے اور اس رونے پہ تُف ہے  صاحبِ ایمان اور مسلماں ہونے پہ تُف ہے

جلال و جمال

کبھی ترے جلال سے بھسم ہوئے  کبھی ترے جمال سے مہک گئے  کبھی گھٹا وصال کی برس گئی  کبھی شرر فراق کے بھڑک 

غزل 26

آئے جو کوئی  بھی وہ روتا ہوا آئے جائے جو کوئی تو چپ سادھ کے جائے  نت نئے خواب و خیالات کمائے  اور  حقیقت میں کئی یار گنوائے گائے دھڑکن نے محبت کے ترانے  اور فرقت نے نئے گھاؤ لگائے  ہائے دریا سی دیالُو مری اماں اور گھنے پیڑ سے بابا  مرے ہائے من سمندر میں سفر دن کو کروں میں  رات کے رہنے کو ہے خواب سرائے کئی  ویرانوں کو خوں اپنے سے سِینچا اور امیدوں کے وہاں  کھیت سجائے    

شاعری

شاعری ہے کچھ ایسے جیسے باغی لفظوں کے بپھرے جِنّ کو شعر کی رنگیں بوتلوں میں  حسن و خوبی سے قید کرنا

میں اور آپ

مجھ میں اور آپ میں شاید ایک فرق ہے  دیکھیں آپ ہر گھڑی دوسروں میں ذات کو  اپنا آپ ہے کیا میں نے ایک آنکھ سا  جس سے دیکھتا ہوں پھر ساری کائنات کو

شعر 3

کوئی مصور ہے ان جاگتی تصویروں کا  ایک تجلی جو منشورِ زمیں سے گزری

آئینہ خانہ

ہیں شش جہات یہ آئینہ خانہ   میری تصویریں خانہ در خانہ  میرے ہونے سے سارا جادو ہے   میرے جانے سے ہر سُو ویرانہ

شعر 2

اسپِ زماں کو موڑ لوں ماضی کے رخ مگر  آ لیں گے راہ میں وہی صدمے فراق کے

شعر

‏ہر شام پکارے ہے یہی ڈوبتا سورج اے کاش مجھے پھر سے ہو آقاﷺ کا اشارہ ‎

نگاہِ کرم

چشمِ امت پناہﷺ کی ہے بات بس اک نگاہ کی ہے جو اُٹھے تو بول اٹھیں پتھر لکڑی دھڑکے سراپا دل بن کر اور وہ نگاہِ جاں فزا روٹھ جائے گر تو بد بختی امڈ کر آئے کوئی "ابو حَکم" بھی ہو چاہے صم بکم ہو کے رہ جائے اور پھر زمانوں بھر ابو جہل کہلائے

حال

بن حالوں کوئی وی حال ناہیں  بن حالوں اخلاص اعمال ناہیں تلوار  اکھاں دی دھار کھُنڈی اُچ چھال اتے سُچا قال ناہیں

نعت رسول مقبولﷺ

مدثّرﷺ مزمّلﷺ بشیرﷺ و نذیرﷺ وہ ہادیءِ برحقﷺ سراجِ منیرﷺ  ہیں معراج میں آپ‏ﷺ اپنی مثال  وہ رتبہ ہے جس کی نہ کوئی نظیر معلم سبھی کائناتوں کے آپﷺ مشرف کئے خواندہ جنگی اسیر  سبھی کے وہﷺ آقا، انھیﷺ کے غلام ہر ایک ادنی، اعلی، حقیر و امیر   زمانے کا وہ بن گیا بادشاہ  ہوا آپﷺ کے در کا جو بھی فقیر   

غزل 25

بھری محفل میں تنہا کر دیا ہے  تخیل  نے تماشا کر دیا ہے  ترے ہونے کا میٹھا میٹھا موسم   اک ان ہونی نے  کڑوا کر دیا ہے   یکایک آگہی کے حادثے نے کسی  بچپن کو بوڑھا کر دیا ہے  مرے سب آنسووں کا کھارا پانی تری بخشش نے میٹھا کر دیا ہے   کئی ذرے جو سورج ہوگئے ہیں  سمندر تھا جو صحرا کر دیا ہے  نگاہیں بولتی ہیں خامشی سے نظر نے  حشر برپا کر دیا ہے  نگاہِ ناز سے بھر دے لبا لب کہ میں نے شیشہ پیاسا کر دیا ہے 

غزل 24

مرتبے  اونچے  دیکھ آیا ہوں  قبروں کے کتبے دیکھ آیا ہوں  آئینے سے نظر چرا کر میں ان گنت چہرے دیکھ آیا ہوں اک تلاشِ معاش کی خاطر مختلف خطے دیکھ آیا ہوں  خاک کے جسم کو سلا کر میں خواب میں تارے دیکھ آیا ہوں دوستی  استوار  کیسے ہو  دگردوں  لہجے دیکھ آیا ہوں   پیچھے مڑ کے جو دیکھتا ہوں تو دنگ ہوں کیسے دیکھ آیا ہوں  حکم ہے تو دوبارہ جاتا ہوں   رنگ میں سارے دیکھ آیا ہوں  دو گھڑی دم تو مجھ کو لینے دو کتنی دُوری سے دیکھ آیا ہوں 

غزل 23

کسی نے دل کو یہاں ان کے نام کر ڈالا  اُدھر انہوں نے فسانہ تمام کر ڈالا  کئی تو وہ ہیں کہ جو بوند کو ترستے ہیں  کسی کی پیاس نے دریا کو جام کر ڈالا کوئی خیال ہے جو اوڑھنا بچھونا ہوا کسی کے ذِکر کو آب اور طعام کر ڈالا ہوا یہ جرم انہیں زندگی کہا ہم نے   سزا کے طور پہ جینا حرام کر ڈالا  مرے نواح میں خاموشیوں کے ڈیرے تھے  مرے وجود نے خود کو کلام کر ڈالا لو ہم انہی کی طرح آگ سے گزر آئے قبیلِ عاشقاں سا ہم نے کام کر ڈالا   رواں دواں میں تو تھا جانبِ فنا راشد کسی نگاہ نے مجھ کو دوام کر ڈالا

میں

میں ہی ساگر جس کے بھیتر میں ہی ڈوبا یار  میں ہی کشتی میں  ہی ماجھی میں ہی ہوں پتوار میں ہی میداں میں ہی یورش میں ہی ہوں یلغار میں ہی قاتل میں ہی لاشہ میں ہی ہوں تلوار میں ہی دھرتی میں ہی برپت  میں ہوں نیل آکاش  میں ہی تارا میں ہی لو ہوں میں ہی ہوں اندھیار میں ہی جنگل میں ہی سورج میں ہی ہوں آباد میں ہی شیر ہوں میں ہی آہو میں ہی ہوں رفتار میں ہی مومن میں ہی کافر میں ہی ہوں نادان میں ہی چوکس میں ہی غافل میں ہی  ہوں ہشیار میں ہی سویا میں ہی جاگا میں ہی ہوں اک خواب میں ہی ہارا میں ہی جیتا میں ہی ہوں بیوپار میں ہی دھوکا میں ہی موقع میں ہی ہوں ایمان میں ہی وعدہ میں ہی عہدہ میں ہی ہوں اقرار میں ہی رستہ میں ہی راہی میں ہی ہوں آغاز میں ہی منزل میں ہی کھوجی میں ہی ہوں اسرار

پینڈا

مینوں ازل تھیں ٹُرنے پایا    اوڈو کیڈا اجے وی پینڈا جد دی ہوش سنبھالی راشد آپنڑاں  آپ سفر وچ ڈِٹّھا

غزل 22

دل سلگتا ہے جان جلتی ہے    آگ ہی جیسی آگہی بھی ہے  روٹھنے میں ضرر  زیادہ ہے اب تری بے رخی بھی دُگنی ہے میری خوشیاں تری ہنسی میں ہیں رنج میرا تری اداسی ہے  مجھ کو انجان جاننے والو عمر میں نے  یہیں گذاری ہے ایک آتش فشان ہوتا تھا یہ جو اب پرسکون وادی ہے کب تلک ظلمتوں کے ڈیرے ہیں؟ صبح آنی ہے رات جانی ہے کس نے اپنا قصور مانا ہے؟ کون کہتا ہے؟ میری غلطی ہے! ہے یہ ممکن تجھے شفا بخشے بات گو ذائقے میں کڑوی ہے