Posts

Showing posts from July, 2021

پیار ‏گزیدہ

تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے کچھ عرصہ میں خصوصا ً پنجابی ثقافت میں رہٹ کی اہمیت وہی ہے جو صدیوں سے پانی اور آبادی کی رہی ہے۔  رہٹ کو پنجابی میں "کُھوہ" کہا جاتا تھا اور عموماً پہچان کے لئے اس زرعی اراضی کے مالک یا مالکان کے نام سے مشہور ہوتا تھا جس میں کھوہ ہوتا تھا، جیسے "دارے کا کھوہ" یا "چٹھوں کا کھوہ" وغیرہ۔  رہٹ چلانے کے لئے عموماً بیل اور کبھی کبھار اونٹ استعمال ہوتے تھے۔  پہیلیاں اور لوک کہانیاں پنجابی ثقافت کا اہم جزو تھیں جو رات کو سونے سے پہلے تھکے ہارے کسانوں کی تفریح کا ذریعہ تھیں۔ ان پہیلیوں اور کہانیوں میں جابجا پنجابی رہن سہن، موسموں کے تغیرات اور کسان کی زندگی میں ان کی اہمیت، استعمال کی اشیاء، شادی و غمی اور دیگر تہواروں کو بیان کرنے والی اصطلاحات اور تفصیلات ملتی تھیں۔  رہٹ کے متعلق ایک پہیلی یوں تھی، "آر ٹاہنگا، پار ٹاہنگا، سَنّ ٹلم ٹلیاں آنڑ کونجاں، دینڑ گیڑے، ندی نہاونڑ چلّیاں" کونجوں سے مراد رہٹ کے وہ ڈول نما برتن ہیں جو ہر چکر کے ساتھ کنویں میں جاکر پانی بھر کر لاتے تھے۔ پنجابی میں انھیں "کھوہ دیاں ٹِنڈاں" کہتے ت...

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

میرے  نانا جی  تقسیمِ ہند سے پہلے کی بہت سی آپ بیتیاں اور جگ بیتیاں سنایا کرتے تھے۔ ان کے دور پار کا ایک رشتہ دار تھا جسے سب جھنڈُو کہتے تھے۔ جھنڈُو مجرد، سیلانی اور عادی چور تھا۔ کبھی کبھار وہ پھرتا پھراتا نانا کے گاؤں آتا تو اپنی مہم جوئی کے عجیب و غریب قصے سناتا۔ نانا جی ان میں سے اکثر ہمیں بھی کوئی نہ کہانی سناتے۔ جھنڈُو نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک نوجوان بچھڑا چرا کر گھنے جنگل سے  گزر رہا تھا کہ اچانک اس کے سر پر چپت پڑی اور ساتھ ہی شرارتی نسوانی آواز میں کسی نے اس کا نام پکارا “ جھنڈُو او جھنڈُو”  اُس نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے درختوں میں گھاگھرے میں ملبوس ایک چڑیل نظر آئی۔ جھنڈُو دل گردے والا انسان تھا وہ ذرا بھر خوفزدہ نہ ہوا۔ چڑیل اب اس کے اوپر ہی اوپر ساتھ ساتھ جارہی تھی اور وقفے وقفے سے اس کے سر پر پاؤں سے ٹھوکر مار کر اسے چڑانے کے انداز میں دہراتی تھی، “جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چپکے سے بچھڑے کے گلے میں پڑے رسے کا وہ سرا جو اس کے ہاتھ میں تھا، کو ناگ بل (ایک طرح کی گھانٹھ) دے لیا۔ جیسے ہی چڑیل نے اگلی چپت لگائی اس نے لپک کر اس کی ٹانگ پکڑ لی اور ...