Posts

Showing posts from January, 2022

غزل 21

ہر بات کسی کی ہے  مری بات پہ حاوی اب ذکر  کوئی ہے مرے دن رات پہ حاوی چھایا ہے تصور پہ کوئی پاک سراپا  محفل کوئی پاکیزہ، خیالات پہ حاوی بس  وقت مرا  گزرے وہی زندہ سلامت  جب فکر ترا ہو مرے لمحات پہ حاوی   دھڑکے ہے مرے  دل سا مرے شعروں کا سینہ  خوشبو کسی نسبت کی ہے صفحات پہ حاوی  رسوا ہوئی کثرت یہ مری حرص و ہوس سے   تعداد کبھی  تھوڑی تھی  ظلمات پہ حاوی  ہو تجھ پہ عیاں کیسے بھلا حرف حقیقت  ہندسوں کا ہدف ہے ترے حالات پہ حاوی

پنجابی کلام

جے کوئی سالار ملے پَلّا پھڑ تے سوچیں ناں سُکھ بدلے غمخوار ملے   دُکھڑے جر تے سوچیں ناں  آہِیں بھر اوتار ملے  ہر دم بھر تے سوچیں ناں اُسدی جت وچ ہار ملے جاویں ہر تے سوچیں ناں  دل دیون دلدار ملے  چھیتی کر تے سوچیں ناں  پھاہے لگ دیدار ملے سولی چڑھ تے سوچیں ناں  سر دتیاں سرکار مِلے  دے دے سر تے سوچیں ناں جِندڑی مُل جے  یار ملے  جھٹ پل مر تے سوچیں ناں

غزل۔ 20

پیڑ دیکھے ہیں جو صحرا میں لدے پھولوں سے  ایک امید سے پھر شعر کہے پھولوں سے جب بھی دنیا نے کبھی راہ بھری کانٹوں سے  اک مسیحا نے مرے زخم سئے پھولوں سے    چار سُو میرے  حکایات اڑیں خوشبو سی خواب میں مجھ کو کئی لوگ ملے پھولوں سے جو خزاؤں نے درختوں سے ہیں پتے نوچے تو بہاروں نے نئے رنگ بھرے پھولوں سے  اس کی ہر بات مرے دل پہ لکھی دھڑکن سی اس کے سب لفظ ترو تازہ کھِلے پھولوں سے  جو ہے دلدار مرے حال سے محرم راشد تو ہیں دنیا کے ستم میرے لئے پھولوں سے

غزل 19

اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے سُکھ سے سونا چاہتا ہوں، وہ جگاتے ہیں مجھے دھند ہےاک درمیاں حائل کئی دنیاوں کے جن میں پنہاں راستے اکثر بلاتے ہیں مجھے  پاس میرے پھرتے چہرے اجنبی سمجھیں مجھے  دُور وقتوں کے پیارے ملنے آتے ہیں مجھے صدیوں پہلے گزرے لمحے گھیر لیتے ہیں مجھے لمحوں پہلے سوچے قصے چھوڑ جاتے ہیں مجھے کوئی آنکھیں ہر سمے میرے تخیل میں رہیں خواب چہرے پار کے نغمے سناتے ہیں مجھے شہر میں بستا ہوں پر باطن پرانا گاوں ہے سنگ و آہن  میں دبے خرمن  بلاتے ہیں مجھے میرا مرشد عشق ہے انجام کا خطرہ نہیں رونا اِس دنیا کا ہے، مل کر جھکاتے ہیں مجھے

غزل 18

  حوصلے کا اونچا پربت ریزہ ریزہ ہوچکا اب  دیکھ تیری بے رخی سے پارہ پارہ ہوچکا اب  شوقِ جلوہ میں  ازل سے دل یے سلگا طُور جیسے  اک نظر کی جستجو  میں جل کے سرمہ ہوچکا اب میرے دل کی دھڑکنوں پر دستکیں ہیں رائیگانی آرزوئے یار بس میرا تماشا ہوچکا اب خواب میں دیکھا نہیں میں نے انھیں اک عمر بیتی  ان کو میری یاد آئے اک زمانہ ہوچکا اب ہم کو بھی تھا خوف اپنی موت سے اے جانِ جاناں  عشق جیسا  جاوداں اپنا  شناسا ہوچکا اب  ہے جگر میں حوصلہ لکھتا چلوں میں داستانیں  کتنے ہی اوراق کا چھلنی کلیجہ ہوچکا اب  #حرفِ_راشد 

سالگرہ

تیری سالگرہ ہے تو میں تحفہ کیا دوں  جو مرے خواب نما ہو، تمہیں جانِ وفا دوں لمحہ لمحہ ہے مقروض تری الفت کا  گویا جادو سے کیا توڑ مری کلفت کا  میرے ہاتھوں میں رہا ہاتھ ترا دُکھ سُکھ میں اک ہمدرد نظر آیا سدا پیارے مُکھ میں  میں نے جو دن کو کہا رات کہی تُو نے وہ   کوئی کہنے کو کہا بات کہی تُونے وہ میرے ساتھی ہو ہمراز مرے ہمدم تُم میرے ساجھی ہو غمخوار مرے دم خم تُم   دیکھو تم رہنا یونہی ساتھ ابد تک میرے ایسے ہی تھامے رکھو ہاتھ ابد تک میرے

غزل 17

ٹوٹی چیزوں سے پیار کرتا ہوں چونکہ میں خود جو دل شکستہ ہوں  ‎ خواب نگری شبیہ دیتی ہے اس میں حرفوں سے رنگ بھرتا ہوں یا کبھی دل جو خون روتا ہے  اس کو قرطاس پر چھڑکتا ہوں  گرجیں طوفان چار سو اپنے تیری چُپ کے بھنور سے ڈرتا ہوں آس آتی ہے چھوڑ جاتی ہے  روز ملتا ہوں اور بچھڑتا ہوں پھر سے پینا تو خیر حسرت ہے جام کے لمس کو ترستا ہوں آپ تو میرا آئینہ ٹھہرے آپ کی دید سے سنورتا ہوں بیٹھا ہوتا ہوں ایک لمحے یاں  ایک پل میں وہاں پہنچتا ہوں    #حرفِ_راشد 

غزل 16

تیرے حُسن کی بہار، ماضی حال سے پرے جیسے اپنی دوستی، ماہ و سال سے پرے قدرتی اشارے سے ناطہ یہ ہے طے ہوا  یکتا اپنا رابطہ ہر مثال سے پرے   جب کسی پہ آئے دل اس کے سحر میں رہے سوچ کی گرہ سے دور اور خیال سے پرے میں فقیر و بے نوا اپنے آپ میں ہوں گم  کر نہ وہم ہوں ترے زلف جال سے پرے  کار و روزگار نے تن مرا جکڑ لیا من میں ایک رند ہے، اِس وبال سے پرے  ٹوٹے دل میں بند ہیں گنج سب وفاؤں کے  درہموں سے دُور دُور اور ریال سے پرے خاکسار و عاجز و دل فگار نا سہی  ہوں مگر میں بے غرض تیرے مال سے پرے #حرفِ_راشد 

غزل 15

ہر ذات اک کہانی ہر شخص واقعہ ہے انسان سارے پُتلے، سب ایک شعبدہ ہے جب ہم نےتم کو جانا، تم دور جا چکےتھے   کس قدر بے بسی ہے! یہ کیسا سانحہ ہے!  جگنو ہوئے زمیں کے یا آسماں کے تارے  سارے ہی اُس پہ وارے جو تیرا راستہ ہے کچھ یاد اب نہیں ہے تھا خواب یا حقیقت   اس بات کا پتہ ہے وہ کون سی جگہ ہے مجھ کو نہ جان بےبس خود کو نہ جان برتر پردے میں مفلسی کے درویش کی نِگہ ہے اک ایسی بے خودی ہے جو ہوش سے قوی تر  چڑھ جائے پھر نہ اترے ایک ایسا بھی نشہ ہے جو بے یقین ہو تو صدیوں کی رہ گزر ہے جو مان جائے اس کو پل بھر کا فاصلہ ہے امید پر ہے قائم بنیاد حوصلے کی  روشن سویر ہوگی یہ رات جو سیاہ ہے