جھنڈُو اور سونے کا ہسّ
میرے نانا جی تقسیمِ ہند سے پہلے کی بہت سی آپ بیتیاں اور جگ بیتیاں سنایا کرتے تھے۔
ان کے دور پار کا ایک رشتہ دار تھا جسے سب جھنڈُو کہتے تھے۔
جھنڈُو مجرد، سیلانی اور عادی چور تھا۔
کبھی کبھار وہ پھرتا پھراتا نانا کے گاؤں آتا تو اپنی مہم جوئی کے عجیب و غریب قصے سناتا۔
نانا جی ان میں سے اکثر ہمیں بھی کوئی نہ کہانی سناتے۔
جھنڈُو نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک نوجوان بچھڑا چرا کر گھنے جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کے سر پر چپت پڑی اور ساتھ ہی شرارتی نسوانی آواز میں کسی نے اس کا نام پکارا “ جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے درختوں میں گھاگھرے میں ملبوس ایک چڑیل نظر آئی۔ جھنڈُو دل گردے والا انسان تھا وہ ذرا بھر خوفزدہ نہ ہوا۔ چڑیل اب اس کے اوپر ہی اوپر ساتھ ساتھ جارہی تھی اور وقفے وقفے سے اس کے سر پر پاؤں سے ٹھوکر مار کر اسے چڑانے کے انداز میں دہراتی تھی، “جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چپکے سے بچھڑے کے گلے میں پڑے رسے کا وہ سرا جو اس کے ہاتھ میں تھا، کو ناگ بل (ایک طرح کی گھانٹھ) دے لیا۔ جیسے ہی چڑیل نے اگلی چپت لگائی اس نے لپک کر اس کی ٹانگ پکڑ لی اور پھرتی سے ناگ بل کھایا رسا اس کے پاؤں سے گزار۔ کر ٹخنے پر کس دیا اور بچھڑے کو زور کی چھڑی ماری۔ بچھڑا ہوا سے باتیں کرتا بھاگ اٹھا اور اس کے پیچھے چیختی چلاتی چڑیل گھسٹی ہوئی جار تھی۔”او جھنڈُو تجھے خدا کا واسطہ مجھے بچاؤ “ لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔
انھی میں سے ایک کہانی،
سونے کا ہس
(خالص سونے کا بھاری بھرکم ہار)
چرانے کی بھی تھی، چلئیے یہ کہانی جھنڈُو ہی کی زبانی سنتے ہیں۔
" ایک مرتبہ میں پھرتا پھراتا ایک گاؤں کے قریب سے گزرا تو دیکھا ایک جگہ کپاس کے کھیتوں میں کچھ سِکھ عورتیں کپاس چن رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت خوبصورت اور جوان مٹیار کے گلے میں سنہری ہس لشکارے مار رہا تھا۔
میں نے اسی وقت دل میں اس ہس کو چرانے کا پختہ تہیہ کرلیا۔ میں قریب کی فصلوں میں چھپا رہا اور جب عورتیں کپاس جننے سے فارغ ہوکر چلنے لگیں تو میں بھی کچھ فاصلہ رکھ کر بظاہر لاپرواہی سے ان کے پیچھے ہولیا۔
ہس والی عورت گاؤں کے ایک گھر میں داخل ہوگئی اور میں ایک چور کی نگاہوں سے گھر کا جائزہ لے کر واپس آگیا۔
ایک دو راتیں ٹھہر کر میں اپنے ارادے کو انجام تک پہچانے کی غرض سے نکل پڑا۔
سردیوں کی راتیں تھیں۔ میں دیوار پھلانگ کر اندر گیا۔ مجھے اندھیرے میں جائزہ لینے اور چیزوں کو تلاش کرنے میں مہارت تھی۔
میں نے اس عورت کی چارپائی تلاش کرلی اور پاس جاکر آہستگی لیکن مضبوطی سے اس کے گلے میں پڑے ہس پر ہاتھ ڈال دیا۔
اس سے پہلے کہ میں جھٹکے سے طلائی گلوبند اتار کر اندھیرے میں رفو چکر ہوتا، اچانک اس عورت نے میری کلائی پکڑ لی۔
مجھے اپنی طاقت اور جوانی کے باجود ایسا لگا جیسے میری کلائی کسی نامی پہلوان کے شکنجے میں آگئی ہو۔
میں نے اپنا پورا زور لگایا مگر میری کلائی کو رہائی نصیب نہ ہوئی۔
وہ جی دار عورت مسکرائی اور سرگوشی میں بولی،
"اگر میں سر عام یہ قیمتی ہس پہن کر کھیتوں میں جاتی ہوں تو اس لئے کہ مجھے تجھ جیسے کمینوں سے اس کی حفاظت کرنی آتی ہے۔ "
آخر کار میں نے ہتھیار ڈال دیئے اور قسم کھا کر کہا کہ میں دل سے تم کو ساری عمر سگی بہن مانوں گا۔ بس ایک بار مجھے چھوڑ دے اور معاف کردے۔
اس نے فوراً میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور میرے لئے بستر بچھا کر مجھے آرام سے سونے کو کہا۔ میں جھجکا اور ڈرا تو وہ بولی، اب تم بہن کے گھر میں ہو اس لئے بے خوف ہوکر سوجاو اور میں اس کے حکم سے گھبرا کر لیٹ کر سوگیا۔
علی الصبح اس نے اٹھ کر دہی "رِڑک" کر مکھن نکالا اور پراٹھے بنانے شروع کردئے۔
اس کے سسرالی افرادِ خانہ نے اٹھ کر میری چارپائی کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کہ کون ہے تو اس نے کہا کہ میرے میکے کے گاؤں سے آیا ہے۔ میرا بھائی ہے۔
میں نے اٹھ کر منہ ہاتھ دھویا۔ اس نے مجھے پر تکلف ناشتہ کرایا۔
میں نے اپنی بہن سے رخصت چاہی، سر پر ہاتھ رکھا اور کچھ پیسے اسے دئے اور چل دیا۔
وہ دن اور آج کا دن، میں ہر عید شب برات کو اپنی بہن کے گھر جاتا ہوں، اسے بھائی کے ناطے سے تحفے تحائف دے کر آتا ہوں اور اس سے مل کر آتا ہوں۔
Comments
Post a Comment