‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے
‏کسی کو یار کا غم ہے، کہیں دلدار کا غم ہے 

‏کہیں بے روزگاری ہے، کہیں شکوہ مشقت کا   
‏کہیں بے کار کا غم ہے، کہیں بے گار کا غم ہے

‏کہیں غم ہے کہ غم کو بانٹنے والا نہیں ملتا 
‏کہیں ہر وقت سر پر ناچتے غم خوار کا غم ہے 

‏کہیں غم ہے کہ کھانے کو میسر صرف فاقے ہیں
‏کہیں چڑھتی ہوئی چربی تو بڑھتے بار کا غم ہے

‏کہیں سردی ستاتی ہے، کہیں گرمی نے مارا ہے
‏کہیں صحرا سرابی ہیں، کہیں منجدھار کا غم ہے

‏کہیں غم ہے محبت کا، کہیں غم ہے معیشت کا 
‏کہیں غم ہے مصیبت کا، کہیں آزار کا غم ہے 

‏کہیں قربت نے گھیرا ہے، کہیں فرقت کے سائے ہیں
‏کہیں تنہائی ڈستی ہے، کہیں دو چار کا غم ہے

‏کہیں چلنے کی جلدی ہے، کہیں رُکنے کا رونا ہے
‏ کہیں ساکن اذیت ہے، کہیں رفتار کا غم ہے 

‏کہیں پر کھوجنے کی دُھن، کہیں حسرت بھلانے کی
‏کہیں افکار کا غم ہے، کہیں اسرار کا غم ہے


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

غزل 32