Posts

غزل ‏8

ہے جو برسات میں بادل سے برستا پانی  کئی نینوں سے گئی  یادوں کا بہتا پانی  جو رہے پیاسے نبیﷺ  کے وہ پیارے سارے   شرم  سے آج بھی ہر دریا  ہے  لگتا پانی ہیں لگے داغ  گناہوں کے  مرے دامن پر دھو ہی ڈالے   گا مری آنکھوں سے  چلتا پانی شیر مردوں کو روا من کے سمندر کا سفر بے بس و کس کا ہے اس بحر میں  پِتّا پانی وقت دریا میں بہے  کتنوں کے ارماں کتنے کس کی  جاگیر ہے  سیراب یہ کرتا پانی کر لے لبریزِ سخن حرف  پیالہ راشد  کس کو معلوم  کہ کب تک ہے ابلتا پانی

اولیں ‏غزل

فرقتِ دوست جائے دوبھر ہو   قطرہ خود کا  مٹا،  سمندر ہو بھول جائے گا جب تُو خود ہی کو تب کہیں جاکے عشق ازبر ہو دل لگی  ابتدا فسانے کی سچا عشق اس کتھا کا آخر ہو گھاو دل کا نظر سے اوجھل ہے برکھا اشکوں کی سب پہ ظاہر ہو عشقِ جاناں میں استقامت رکھ دھرا گلے پہ چاہے خنجر ہو  کھوجتا چار سُو رہا ہوں اُسے ہو نہ ہو یار میرے بھیتر ہو جس کے کارن بہا سخن دریا ہے یقیں، تم وہی قلندر ہو  اصل میری ہے مُشتِ خاکِ حجاز پر ہیں  سارے بضد کہ ڈوگر ہو

بارگاہِ ‏رومی ‏رح ‏میں ‏عرضداشت ‏

بادشاہِ فیض   و عرفاں   مِیر  اور مولائے  روم  معرفت کے  دریا ہیں  اور  بے کراں بحرِ  علوم بادشاہ گر  ہے نظر  اور  نور کا چشمہ مزار ریت کے اِس ذرے کو کر دیجئے رشکِ نجوم

مواصلات ‏و ‏ترسیل ‏

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا (النّمل) پھر (سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی ) کی بات پر مزاحاً متبسم ہوئے بلاشبہ فی زمانہ مواصلات نے حیرت انگیز طور پر ترقی کرلی ھے. ہر طبقے، جنس اور عمر کا انسان اس کے حصار میں ھے، زمینی فاصلے اب کوئی معنی نہیں رکھتے۔ پیغام رسانی اب سانس کا طرع ہماری زندگیوں کاحصہ ھے۔ مگر ھم برقی آلات کے بغیر اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ کسی بھی point پر system faluire ہمیں معذور کرسکتا ھے اور کرتا رہتا ھے۔ اس ساری چکا چوند میں ھم نے اپنے پْرکھوں کا آزمودہ اور آلات اور ان کے نقائص سے مبرا نظام کہیں کھو دیا۔ ساتھیو میرا دھیان رہ رہ کر ان واقعات کی طرف چلا جاتا ھے جب ایک شیر خوار بچے نے یوسف علیہ السلام کی معصومیت کی گواہی دی، جب چیونٹی اور ہدہد نے اللہ جانے کونسی زبان میں سلیمان علیہ السلام سے گفتگو کی، جب ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے میں دور دراز کے ملک سے حاضر کردیا گیا۔ جب کھجور کا خشک تنا دھاڑیں مار کر رویا اور جب ایک اونٹنی نے رحمت اللعامین صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا فیصلہ کیا۔ "خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر"

خود ‏ناشناسی ‏

    جہاں کا آئینہ یا اپنے آپ میں جہاں ہوں میں؟ چراغ ہوں کہ دیے کی لَو، آگ یا دھواں ہوں میں!! بقا ہے حافظے کی بس کسی کے نام کا آہنگ رہی خبر نہ کہ کیوں ہوں کیا ہوں اور کہاں ہوں میں!! ‎

نیند ‏اور ‏خواب ‏

سکول میں یہ اس کا بمشکل تیسرا ہفتہ تھا جب اس کے استاد جی نے پانچویں جماعت(جو اس کی ننھی عمر میں اسے جنوں کی جماعت دکھائی پڑتی تھی ) کے لڑکے لڑکیوں کے درمیان کرسی پر بیٹھے بیٹھے اسے بلایا، "ادھر آؤ پتری" ( وہ اسے یہی کہہ کر بلاتے تھے) وہ ڈرتے جھجکتے آہستہ آہستہ رکتا چلتا وہاں پہنچا تو استاد جی نے پانچویں جماعت کی اردو کی کتاب سے اسے چند جملے پڑھنے کو کہا، جو اس نے ایسے آسانی اور مزے سے پڑھ دیے جیسے برف کا گولا چوس رہا ہو۔ استاد جی نہائت محبت اور فخر سے بولے، " کیا ماں کے پیٹ میں بھی کتابیں پڑھتے تھے؟" ساری جماعت ہنس پڑی اور وہ ناسمجھی، خوف، شرم اور جھجک سے تقريباً رو پڑا۔ اس واقعے کو بیتے ‏برسوں ہوئے کہ نیند اور خواب کے جھٹپٹے میں،، ایک باریش ہیولے نے اسے قلم تھما کر گرج دار آواز میں کہا، "لکھ"!!!! اس غیر مرئی حکم نامے کے رعب و دبدے سے وہ آندھی میں پتے کی طرع تھراتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ یہ ان دیکھا قلم اس کے قلب و روح میں ایسے سرائیت کر گیا جیسے خوشبو بخارات بن کر سانسوں میں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچپن سے پڑھے ہوئے حرف، ست رنگی روشنائی بن کر اس علامتی قل...

دیوانے ‏کا ‏خواب ‏

وَاللّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللّهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ (انحل،72) ‏اور اللہ نے تمہارے واسطے تمہاری ہی جان سے عورتیں پیدا کیں اور تمہیں تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے دیے اور تمہیں کھانے کے لیے اچھی چیزیں دیں، پھر کیا جھوٹی باتیں تو مان لیتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ ‏خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ ( انحل،4) اسی نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ(انسان) یکایک کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔ کائنات اور اس میں موجود مخلوقات اللہ ہی کی ہیں درجہ بندی اسی ذات وحدہ لا شریک نے بوسیلہ حضور سرور کائناتﷺ فرمائی۔ جب اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کو مان لیا تو اس درجہ بندی اور احکامات کو بھی لازماً ماننا پڑے گا۔  جیسا کہ حضرت علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے پہلوان کو پچھاڑ کر اور پھر اسے معاف فرماکر یہ ثابت کردیا کہ مخلوق کی طرف نہیں ‏خالق کی طرف دھیان ہونا چاہئیے۔ ‏انسانوں کے آپس میں حقوق...