غزل ‏11 ‏ ‏ ‏


راستہ ہم قدم نہیں نہیں ہوتا 
فاصلہ تجھ سے کم نہیں ہوتا

میری  دنیا ہے میرے ہونے سے
 میں نہ ہوتا  تو غم نہیں ہوتا 

تیری یادوں کو چھوڑ دوں تنہا 
 مجھ سے ایسا ستم نہیں ہوتا 

چار سو روشنی وفا کی  ہے
ہے  اجالا  جو کم نہیں ہوتا 

یوں تو سب کو ملال ہوتا ہے 
 ساری آنکھوں میں نم نہیں ہوتا 

کئی ایسے بھی زخم ہوتے ہیں 
جن کے ہونے کا غم نہیں ہوتا 

 

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32