آزادی
سنا ہے کہ سکندرِ اعظم کسی الجھن کا شکار ہوگیا اور اس کے تمام درباری دانا بھی اس کی تشفی نہ کرسکے۔ پھر کسی نے اس کی رعایا میں موجود ایسے فقیر کا ذکر کیا جو ایک جھونپڑی میں اکیلا رہتا تھا اور اسقدر دانا تھا کہ بادشاہ کی الجھن سلجھا سکتا تھا۔
بادشاہ اس سے ملنے گیا تو فقیر سردیوں کی دھوپ سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ بادشاہ نے حسبِ مراتب گھوڑے پر بیٹھے ہی اس سے دریافت کیا کہ کیا بادشاہ اس کے لئے کچھ کرسکتا ہے۔
فقیر نے بادشاہوں کے انداز سے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ ہاں تم یہ کرسکتے ہو کہ اپنا گھوڑا یہاں سے ہٹا لو کیونکہ اس کا سایہ میری دھوپ میں حائل ہے۔
بادشاہ گھوڑے سے اترا اور اس کے سامنے جھک کر کہا کہ دراصل آپ میرے کام آسکتے اور میں اسی لئے حاضر ہوا ہوں۔
وقت گزرنے کے ساتھ انسان ایک ہی واقعہ کو مختلف رنگوں سے دیکھتا ہے۔
آج میں خود کو اس فقیر کی جگہ دیکھ سکتا ہوں۔ لیکن ایسا ہونے میں صرف ایک factor مانع ہے وہ factor میرا لالچ، خوف یا بزدلی نہیں بلکہ صرف اور صرف میرے بیوی بچے اور مجھ سے جڑے رشتے ہیں۔
صرف اسی ایک factor کے ہوتے ہوئے میں دن میں ہزار سمجھوتے اور comprise کرتا ہوں۔
"میں" دنیا کا ہر مرد ہوں جس کے کاندھوں پر فرائض اور ذمہ داری کا بوجھ ہے
Comments
Post a Comment