بِلُّو

شروع شروع میں بِلُّو ایک روپے کا مطالبہ کرتا تھا، پھر دو روپے کا نوٹ جاری ہوا تو اس نے مزدوری بڑھا کر دو روپے کردی۔
مگر اب تو گویا حد ہی ہوگئی کہ وہ پانچ روپے سے کم کی طرف دیکھتا تک نہ تھا۔
بِلُّو کے دو ہی شوق تھے، چائے اور پانچ کا نوٹ۔
وہ اکثر سوچتا کہ بِلُّو کا اصلی نام کیا ہوگا۔ پھر اس نے خود ہی اس کا نام بلال رکھ لیا مگر کبھی بھی کسی پر ظاہر نہ کیا۔
اسے اس نام سے اور شاید بِلُّو سے بھی محبت تھی.
ایسی محبت جو بچپن کے ہم عمر ساتھیوں سے اس وقت تک رہتی ہے، جب تک انسان کو رنگ روپ، ذات پات، اونچ نیچ اور نفع نقصان کے بھدے عدسوں والی عینک نہیں لگ جاتی۔
تو بِلُّو بچپن سے ان کے گھر آتا تھا، ہفتے میں ایک آدھ بار، چائے پینے اور ایک روپیہ لینے۔
اس کی امی، بِلُّو کو کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے کو دے دیتیں، جو وہ خوشی خوشی کردیتا۔
بِلُّو کو "دورے" پڑتے تھے۔ اکثر اوقات وہ بھلا چنگا ہوتا تھا۔
مگر مہینہ دو مہینے بعد اچانک اس کی گردن کے پٹھے اکڑ جاتے، آنکھیں پیچھے کی طرف مڑ جاتیں اور وہ درخت کے کٹے ہوئے خشک تنے کی طرح، دھڑام سے زمین پر گر جاتا۔
کوئی پاس ہوتا تو سہارا دے کر، پاؤں کے تلوے مل کر، پانی پلا کر اپنی سی کوشش کرتا۔
ورنہ کہیں راستے میں اکیلے جاتے ہوئے کافی وقت بے سدھ پڑا رہنے کے بعد، خود ہی اٹھ کر پھر سے چل پڑتا۔ اس "دورے" کے بعد بِلُّو کئی روز نڈھال سا رہتا۔
بِلُّو کی باتیں بے ربط اور جملے مہمل ہوتے تھے۔
کچھ لوگوں کو وہ نام و القابات سے پہچانتا تھا باقی سب کو چہروں سے۔
نہانے سے بِلُّو کو چڑ تھی۔ دو تین ہفتوں بعد جب کپڑے میل کی بہتات سے ترپال کی طرح اکڑ جاتے اور بال پتھر کی طرح جامد اور سخت ہوجاتے تو مجبوراً بِلُّو کی ماں زبردستی اسے نہلا کر دھلے ہوئے کپڑے پہنا دیتی۔ نہا دھو کر بلو دولہے کی طرح نیا اور نکھرا ہوا لگتا۔
عموماً یہ جمعہ کا دن ہوتا۔ اس دن بِلُّو مسجد جاتا۔ نماز ادا کرتا اور آخر میں سب کے ساتھ مل "جانِ رحمت" پڑھتا۔
جس کا ماجرا وہ آکر اس کی امی کو سناتا۔
بِلُّو کے والدین غریب مزدور تھے جن کے ذمے بِلُّو اور اس کے بہت سے باقی بہن بھائیوں کا پیٹ پالنا تھا۔ عموماَ دوسرے مزدوروں کے بچے چھوٹی عمر میں کام کاج شروع کردیتے تھے اور والدین کا ہاتھ بٹاتے تھے مگر بِلُّو اور اس کے ایک چھوٹے بھائی کو"دوروں" اور مخبوط الحواسی کی وجہ سے ایک معذور گردانا جاتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور بِلُّو کے چہرے پر ہلکی ریشمی داڑھی آگئی۔ اب وہ پانچ روپے سے کم نہ لیتا تھا۔
خود وہ بھی بڑا ہوچکا تھا اور زندگی کے بے رحم بپھرے سمندر میں غوطے کھاتا ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔
بِلُّو کی ایک بہت بڑی کمزوری اس کے پیسے تھے۔
وہ گاؤں کے گھر گھر جاتا ، سارا دن پانچ پانچ روپے اکٹھے کرتا۔
پے در پے دوروں کی وجہ سے اب وہ کام کرنے کے لائق نہیں رہا تھا اور اس کی باتیں پہلے سے زیادہ بے ربط ہوچکی تھیں۔ اس لئے اسے یہ پیسے بڑے جتنوں سے ملتے تھے۔
گاؤں کے شریر بچے اور کچھ بچہ نما بڈھے اس کی  اس کمزوری کا استحصال کرکے لطف اندوز ہوتے تھے۔
بِلُّو اکثر اوقات، بچوں کے ہجوم میں گِھر جاتا جو اسے یہ کہہ کر چڑاتے، " بِلُّو روپیہ دے دے"
ایسے مواقع پر بِلُّو، جال میں پھنسے کبوتر کی طرح بے بس ہو کر اپنے سر پر دوہتڑ مارتا چیختا چلاتا اور روتا تھا۔ لیکن اس صورتحال سے نکل نہیں پاتا تھا۔ یہ آوازیں اسے گویا زنجیروں کی طرح جکڑ لیتی تھی۔
اس نے اکثر بِلُّو کو ایسے مواقع پر پھنسا دیکھ کر بچوں کو جھڑک کر بھگایا۔ بِلُّو آزاد ہونے کے بعد خاموشی سے چلاجاتا۔
کبھی اس کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ جس کا نہ ہی بِلُّو کو ادراک تھا اور نہ ہی اس کو شکریہ سننے کی حاجت و خواہش۔
ایک دفعہ وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکائے جارہا تھا کہ ایک گلی میں بِلُّو دکھائی دیا۔ وہ چیخ رہا تھا اور سر پیٹ رہا تھا۔ بچوں کے ہجوم کی بجائے صرف ایک بڈھا کھڑا روپے کا مطالبہ کرکے بِلُّو کی اذیت سے لطف اندوز ہو کر اپنی مکروہ باچھیں کھلا رہا تھا۔
اس نے بڈھے کو منع کیا تو بڈھا غصے اور ڈھیٹ پنے سے بولا، "میں اسی طرح کروں گا"۔ اس نے سرد لہجے سے بڈھے کو دھمکایا،"ایک دفعہ آواز تو نکال،میں یہیں تمھارا گلا دبا دوں گا"
بڈھا خوفزدہ ہوکر چلتا بنا مگر بِلُّو خلافِ معمول اس کی طرف آیا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا،
"اللہ تیرا بھلا کرے"
اس کے بعد اسے ششدر اور ہکا بکا چھوڑ کر بِلُّو نے اپنی راہ لی۔
اس کے اپنے حالات ان دنوں دگردوں تھے۔ ایک دن وہ نہایت ہی بیزار تھا کہ بِلُّو آیا اور اس سے پانچ روپے کا مطالبہ کیا۔ اس نے ناگواری سے کہا، "جاؤ میرے پاس نہں ہیں"۔
بِلُّو جانے کے لئے مڑا تو اسے شدید خجالت و ملامت کا احساس ہوا اور اس نے فورا اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر بنا دیکھے اور گنے کچھ نوٹ بِلُّو کی جیب میں ڈال دئے۔ اگلے دن وہ اپنے کام کے سلسلے میں راولپنڈی گیا ہوا تھا تو اسے فون پر بِلُّو کی موت کی خبر ملی۔
جہاں بچپن کے دوست کی موت کا صدمہ اس کے دکھی دل کو مزید دکھی کرگیا وہیں اس نے تشکر کی ٹھنڈی آہ بھی بھری کہ وہ آخری پانچ روپے دے کر احساسِ بے وفائی و بے مروتی کی اذیت سے بچ گیا۔
اس کے گھر والے بتا رہے ہے تھے کہ بہت بڑا جنازہ تھا اور لوگ دور دراز سے آئے تھے۔ ہر کوئی حیران تھا کہ ایک گمنام دیوانے کا جنازہ پڑھنے اتنے لوگ کہاں سے آگئے۔
پتہ ہے بِلُّو اپنے پیسوں کا کیا کرتا تھا؟
اس کی شلوار اور قمیض کی جیبیں اکٹھے کئے ہوئے پیسوں سے بھر جاتی تھیں جنھیں وہ سارا دن اذیت سہہ کر گاؤں کے بچوں سے بچاتا تھا۔ رات کو بِلُّو سو جاتا تو بِلُّو کی ماں اس کی جیبیں خالی کردیتی۔ جنہیں وہ اگلے دن پھر سے بھرنے کے لئے نکل پڑتا۔
اس طرح بِلُّو اپنی مختصر زندگی میں، ایک جوان اور کماؤُ بیٹے کی طرح مزدوری کرکے روزانہ کی کمائی اپنی ماں کو لا کر دیتا رہا۔۔۔۔۔

 


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32