غزل ‏6

ظاہر مرا  ٹھہرا ہوا  اور  دل ہے قیامت
اس تن پہ گزر جانے کو مائل ہے قیامت

قربت کا یہ عالم ہے بسے سینے میں میرے
چھو لینے کی چاہت ہو تو حائل  ہے قیامت

کل تک جسے دیکھے ہی سے زخموں کو شفا تھی
آنکھیں ہوئیں اس چہرے سے  گھائل، ہے قیامت

 ہونگے  پری چہروں  کے لب و رخ کی سجاوٹ 
اس چشمِ جگر پاش کا وہ تِل ہے قیامت

بدصورتی دنیا کی  ہے  راشد کا نیا  شوق 
چُوڑی کوئی  خطرہ  نہ ہی  پائل ہے قیامت

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32