ابو کی پہلی برسی کے تاثرات
آج میرے ابو کو فانی دنیا سے عالم بقا کی طرف پرواز کئے ہوئے پورا ایک سال ہوگیا۔
میری والدہ محترمہ تقریباً تیرہ سال پہلے اپنے اصلی دیس سدھار چکی ہیں۔
عین اس گھڑی جب ایک گہری لحد میں ہم بھائی، اسی جسم پر، جس کے اندر سے ہم نےعدم سے وجود کا سفر طے کیا،
مٹی ڈال رہے تھے تو انسان کی بے بسی، پراسراریت، نہ خود ناشناسی و ناآگہی،
خوشیوں کے لباس میں غم اور شہنائی کی آواز میں ماتم،
تمام پردے فاش کرکے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ اس دن ہر شے کی ناپائیداری اور ہر ذی روح کا عارضی زمینی پڑاو صاف نظر آنے لگا اور دل میں اس بات کا تیر ترازو ہوگیا کہ سب پیارے رشتے بچھڑ جائیں گے۔
جب ماں چلی جاتی ہے تو انسان ہر رشتے میں اسے تلاش کرتا ہے۔ باپ اور بہن بھائیوں میں اس کی خوشبو تو ہوتی ہے لیکن ماں کا دل صرف ماں ہی کی ملکیت ہے اور یہ ترکے میں نہیں چھوڑا جاتا عین ممکن تھا کہ اس حقیقت کی آگاہی کے بعد قلب کبھی بھی حقیقی خوشی کو دوبارہ محسوس نہ کرسکتا لیکن اللہ کی رحمت سے دھیان اس طرف چلاگیا کہ سارا عالم عدم سے صرف ایک ہی نورانی پیکر صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر وجود میں آیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ذکر پہلے بھی بلند تھا۔
اور آج بھی ہے اور ابد تک رہے گا لیکن آپ نے اس فانی دنیا سے ہجرت فرما کر اگلے جہان میں سکونت اختیار فرمائی۔ تمام انبیاء، اور اصحاب و اہل بیت اطہار، صالحین و اولیاء کرام سب آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں وہیں جاتے ہیں۔ تو وہ جہان اس خاکی و فانی جہان سے کس قدر اٹل، مستقل، روشن اور مبارک ہے اور ہمارے پیارے رشتے ان عظیم ہستیوں کی معیت میں وہیں ہیں۔ بس اس خیال کے آتے ہی اور یقین میں بدلتے ہی دل صبر و سکون سے آشنا ہوگیا۔
❤صلی اللہ علی سیدنا و مولنا محمد و آلہ و واصحابہ وبارک وسلم 💞
Comments
Post a Comment