ہاں

اس کی ماں بیمار رہتی تھی
ماں تھی ہی اتنی اچھی کہ کوئی بھی اس سے ایک دفعہ مل لیتا تو پھر سدا کے لئے گرویدہ ہوجاتا۔

بیماری ماں سے کیا ملی، بن بلائے مہمان کی طرح، وہیں کی ہو رہی۔
تو ماں اکثر بیمار رہتی تھی۔
جس کی وجہ سے مختلف رنگ، شکل اور بو والی دوائیاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔
یہ دوائیوں کی شیشیاں اسے بڑی بھلی معلوم ہوتی تھیں۔ شاید اس لئے کہ ماں کی باقی چیزوں کی طرح، یہ بھی اس سے نسبت و تعلق رکھتی تھیں۔

بیماری کی وجہ سے ماں بہت سی لذیذ چیزوں سے پرہیز کرتی تھی۔
ایک دن وہ مکئی کا بھٹہ مزے سے کھا رہا تھا،
جو اس کے نانا اپنی چلم کے لئے انگارے بناتے وقت اسے اور باقی بچوں کو بھون کے دیا کرتے تھے۔
اس کا دل چاہا کہ ماں کو بھی دے۔
مگر ماں اپنی بیماری کی وجہ سے بے زار لیٹی ہوئی تھی۔
اس نے بھٹہ ماں کی طرف بڑھایا تو وہ جھرجھری لے کر بولی،
" پرے ہٹاؤ مجھے نہیں کھانا"
وہ ماں کے لہجے سے کچھ نتیجہ اخذ کرکے جانے کیوں بولا،
"کیا اس کے کھانے سے آپ مر جائیں گی؟"

ماں بولی، "ہاں"

یہ "ہاں" اس کے کلیجے میں چاقو کی دھار کی طرح اتری اور اس نے سہم کر بھٹہ یوں پرے پھینکا جیسے غلطی سے سانپ کو پکڑ لیا ہو۔

اب وہ اتنے برسوں بعد اکثر اس دن کے بارے سوچتا ہے تو ماں کی "ہاں" سن کر پھر سہم جاتا ہے۔

اسے لگتا ہے کہ اگر وہ ایسا سوال نہ کرتا اور ماں کا جواب "ہاں" نہ ہوتا تو شاید وہ ابھی زندہ ہوتی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32