موت ‏کی ‏پہلی ‏جھلکی

اس چھوٹے سے بچے کے لئے دکھ تکلیف (روحانی و جسمانی)،

بھوک پیاس،بے آرامی، بیماری اور نظر انداز ہونا کوئی نئی باتیں نہیں تھیں۔

البتہ موت کا اسے کوئی تجربہ نہ تھا،

(ظاہر ہے) نہ ذاتی اور نہ ہی دیکھا سنا۔


پھر ایک دن ایک کالے رنگ کا زخمی پرندہ اچانک دھڑام سے اس کے کچے گھر کے صحن اور ناپختہ زندگی میں آ ٹپکا۔

اس پرندے کو "چیپُو" پکارا جاتا ہے

اس خاص چیپُو کے ایک پر کے نیچے زخم تھا۔

بچے کی ساری ہمدردی، مامتا، رحم اور محبت زخمی پرندے کے پر اور ننھی جان پر مرکوز ہوگئی۔


پھر اچانک گھر میں اس کی امی کی پھوپھو کی موت کی خبر پہنچی۔

اس کا ننھا دل ایک ان دیکھے خوف کی کالی سیاہ، چیپو کے پروں سے بھی کالی، چادر میں

ایسے گھِر گیا جیسے چودھویں کا چاند کالے سیاہ بادلوں میں۔


اسے بوڑھی پھوپھو کی موت کا اتنا غم نہ

ہوا جتنا اس خبر کے ساتھ آنے والے ان دیکھے

اجل کے فرشتے کو چیپو کے آس پاس لُو کے جھونکے کی طرح منڈلاتے سوچ کر۔


سارا گھر اور گھر والے اسے اور چیپو کو اکیلا چھوڑ کر مرگ والے گاوں چلے گئے اور اس کا کچے گھڑے جیسا ناپختہ شعور کئی قسم کے خوف کے بگولوں کے درمیان گھرے تنکے کی طرح ایک دائرے میں چکر کاٹتا رہا۔

وہ سوگیا، ساتھ ہی ساری دنیا اور اس کے کڑوے سچ بھی ٹانگیں پسار کر اونکھنے لگے۔

وہ اٹھا تو تیر کی طرح سیدھا چیپو کے پاس گیا۔ جو بہت سی مکھیوں ، چیونٹیوں، اور کچھ رینگتی سنڈیوں کے درمیان کالی اون کے لچھے کی طرح بے حس و حرکت پڑا تھا۔


بچے نے اپنی زندگی کی پہلی موت سن، دیکھ اور چکھ لی۔


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32