ثریا باجی
ثریا باجی اس کے بہن بھائیوں اور کزنوں میں پہلوٹھی کا بچہ تھیں۔ اس سے کافی بڑی تھیں اس لئے وہ ان کی گود میں کھیلنے والوں میں سے ایک تھا۔ ثریا باجی اس کے بچپن کی دھندلی اور خوشگوار یادوں میں سے ایک تھیں، جیسے کیمرے کی ایجاد کے شروع شروع کی تصاویر ہوں لیکن رنگوں سمیت۔
قرآن پاک اور ثریا باجی لازم و ملزوم تھے۔ وہ قرآن کی حافظہ تھیں اور اس نے ہمیشہ ان کے گھر بچوں کو قرآن پاک پڑھتے دیکھا۔
اس کے ددھیال کے بہت بڑے گاؤں کی قریب قریب ساری بچیاں ثریا باجی کی شاگرد تھیں اکثر ناظرہ اور کچھ حفظِ قرآن کی شاگرد۔
ثریا باجی حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کا نہایت حسِین امتزاج تھیں۔
سرخ و سفید خوبصورت چہرہ اور لمبے سیاہ کالے بال، عقل و دانش کا جاگتا پیکر۔
ان کی شادی کے وقت وہ کچھ بڑا ہوچکا تھا
غالباً چوتھی جماعت کا طالب علم. ان کی شادی ایک بڑے زمیندار گھرانے میں طے پائی۔ برات سے ایک رات پہلے ماہر کھانا پکانے والے آچکے تھے اور ساری رات مزے کے پکوان تیار ہوتے ریے۔ کچھ چیزیں تو اس کے لئے بالکل نئی اور حیران کن تھیں، جیسے سلاد میں چقندر اور میٹھے چاولوں میں رس گلے۔
دلہا ایک خوبرو، وجیہ اور پڑھا لکھا جوان تھا۔
چونکہ ثریا باجی قرآن کی حافظہ تھیں اس لئے سسرال والے ان کے لئے روایتی زیورات کے ساتھ ساتھ سونے کا ایک تاج بھی لائے تھے۔
دن مہینے سال گزرتے گئے اور بچپن نے لڑکپن اور جوانی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ثریا باجی، بچپن کے تہوار کی طرح خوشگوار یاد بن کر رہ گئیں۔
کئی سال بعد وہ کرہءِ ارض کے ایک گوشے میں باہر کی چکاچوند سے گھبرا کر اچانک اندر کے اندھیروں میں داخل ہوگیا۔ جیسے کسی بڑے شہر کی روشن سڑک پر کسی خطرے کے تعاقب سے خوفزدہ ہوکر انسان کسی اندھیری گلی میں مڑ جائے۔
اس گلی میں داخل ہوتے ہی وہ ایک اور دنیا کے بہت بڑے پھاٹک پر جا پہنچا۔ جہاں نہ باہر کی دنیا کا شور تھا، نہ خوف، نہ قدر، نہ قیمت۔
اسی کیفیت کے زیر اثر وہ واپس گھر پلٹ آیا تو اسے پتہ چلا کہ ثریا باجی بیمار ہیں۔
وہ ان سے ملنے گیا تو دنیا سے اپنی لاتعلقی کے باوجود دھک سے رہ گیا۔
گرمیوں کی دوپہر میں وہ چارپائی پر بغیر پنکھے کے نہ پوری طرح بیٹھی تھیں نہ ہی لیٹی کہ حالت ہی ایسی تھی کہ ان سے پنکھے کی ہوا تک برداشت نہ ہوتی تھی۔ نہ لیٹا جاتا تھا نہ بیٹھا۔
لمبے سیاہ بال جھڑ چکے تھے، خوبصورت چہرے کی جگہ مرجھایا ہوا پھول تھا۔
ان کے چار پانچ بچے تھے۔ سب سے چھوٹا بیٹا دو سال سے کچھ اوپر تھا اور ثریا باجی اتنے ہی عرصے سے سینے کے سرطان میں مبتلا تھیں۔
وہ بیٹے کو ایک دن بھی گود میں نہ کھلا پائی تھیں۔
ثریا باجی نے دوپٹہ سینے سے ہٹاکر اس سے کہا،
" لے دیکھ لے ویرے"
سرخ رنگ کا ایک غار جیسا گہرا زخم تھا جس کی اندھے کنوئیں کی طرح کوئی انتہا نظر نہیں آرہی تھی۔
الفاظ گونگے ہو چکے تھے اور ان کی جگہ آنسووں کی بارش نے لے لی تھی۔
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھا پھر دل ہی دل میں ثریا باجی کی مشکل آسان ہونے کی دعا کرکے اٹھ آیا۔
ایک دن ثریا باجی کی حالت ایسی ہوگئی کہ سب نے سمجھا کہ بس آخری وقت آپہنچا اور سورہ یسین پڑھنا شروع کردی۔ کچھ دیر بعد انھیں ہوش آگیا اور کہنے لگیں کہ ابھی میرا وقت نہیں آیا۔ جب آیا تو خود بتا دوں گی۔
پھر ایک دن صبح صبح انھوں نے کہا کہ آج میرے جانے کا دن ہے۔ مجھے نہلا کر نئے کپڑے پہنا دو۔ صاف ستھری ہوکر کہا کہ اب پڑھو۔ سب سورہ یسین اور قرآن پاک پڑھنے لگے۔ خود بھی پڑھتی گئیں۔ پھر سب کو کلمہ پڑھنے کا کہا۔
کچھ وقت سب کے ساتھ کلمہ شہادت کا ورد کرنے کے بعد ہاتھ کے اشارے سے خاموش ہونے کو کہا سب خاموش ہوگئے تو خود سرگوشی میں کلمہ پڑھتی ہوئی رخصت ہوگئیں۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment