تلوار ‏



پچھلے ہفتے پیاروں کے ساتھ بہت دفعہ پہلے سے دیکھی ہوئی فلم دیکھنے بیٹھ گیا جو آپ احباب میں سے بھی بہت سوں نے دیکھ رکھی ہوگی۔ دوحصوں میں طویل فلم۔ Kill Bill vol 1 & 2. 
پتہ نہیں آپ نے کیا دیکھا، میں نے جو دیکھا وہ میں آپ کو دکھاتا ہوں۔ 
سب سے پہلے تو بہت سے ‏ویمتی اسباق ملے
1- ہیرا گندی نالی میں گر کےبھی ہیرا رہتا ہے
2- ارادے کی مضبوطی پہاڑ جیسی رکاوٹ بھی عبور کروادیتی ہے
3- انسان زندگی میں آخری موت سے پہلے کئی بار مرتا اور نیا جنم لیتا ہے
4- استاد کامل سے وہی فیض یاب ہوسکتا ہے جو اپنا پچھلا گیان چوکھٹ کے باہر چھوڑ کر‏ آئے اور اپنا آپ استاد کے سپرد کردے
5- ایسے استاد سے سیکھا ہوا زندہ درگور بھی کردیا جائے تو پھر سے پیروں پر مضبوط ہوجائے گا 
6- دوست تو دوست، انسان کو دشمن بھی اعلی ظرف اور وضعدار بنانے چاہئیں 
7- انسان کا سب سے بڑا دشمن، دوست کے روپ میں ہوتا ہے جس پر فتح پانا ہی فتح مبین ہے ‏اور وہ دوست نما دشمن"نفس" ہے۔ 
لیکن جس بات نے مجھے اب تک اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے وہ ایک تلوار کا ذکر ہے، فلم کا مرکزی کردار ایک چاپانی ماہر تلوار ساز کے پاس تلوار بنانے کی درخواست لے کر جاتا ہے۔  
ظاہر ہے تلواروں سے لڑائی بھی ہوتی ہے اور یہ آہنی سرگم مجھے صدیوں کے سفر پر ‏روانہ کردیتی ہے اور میں تین مختلف تلواروں کے سحر میں جکڑا جاتا ہوں۔ 
1- العون، وہ تلوار جو کائنات کے سب سے مبارک اور نورانی ہاتھ میں آکر عدم سے وجود پاگئی۔ یہ لکڑی کی چھڑی تھی جو عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کو بدر میں عطا کی گئی۔ 

‏2-سیف اللہ، ایک انسانی مجسم تلوار جو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ایک نہ ٹوٹنے والی اور کفر کو ملیا میٹ کرنے والی تلوار بن گئے
3- الذوالفقار، وہ تلوار جو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت علی رضی اللہ کو عطا فرمائی

‏شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
لَا فَتٰي اِلَّا عَلِي لَا سَيْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار
‎#کشتئہ_خاک_حجاز
#حرفِ_راشد 

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32