دیس ‏پردیس ‏

جو جس پر گزرتی ہے اس کی شدت کا  احساس و ادراک اس کے علاوہ صرف اس صورتحال سے دوچار ہونے والوں کو ہوتا ہے۔
جیسے خواتین ہی سمجھ سکتی ہیں کہ والدین کے گھر سے رخصت ہوتے وقت ان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح وہ دو  حصوں میں بٹ جاتی ہیں۔ 

‏حضرات میں سے پردیسی شاید یہ کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ نوجوانی میں پردیس جاتے وقت اپنے والدین سے مل کر رخصت ہوتے ہوئے انسان دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ 
دل ماں کے قدموں سے لپٹ جاتا ہے اور دماغ، جسم کو گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔ 

خیر یہ سب باتیں تو ضمنی اور فانی ہیں۔
 
‏دراصل میں یہ سوچ رہاں ہوں کہ اِس جہان اور اُس جہان میں سےمیکہ یا وطن کونسا ہے اور سسرال یا پردیس کونسا۔ 

یہ وطن ہے تو انسان روتا ہوا کیوں آتا ہے اور دوسرا جہان وطن ہے تو جاتے ہوئے انسان کو چپ کیوں لگ جاتی ہے اور سب روتے کیوں ہیں؟


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32