غزل 17
ٹوٹی چیزوں سے پیار کرتا ہوں
چونکہ میں خود جو دل شکستہ ہوں
خواب نگری شبیہ دیتی ہے
اس میں حرفوں سے رنگ بھرتا ہوں
یا کبھی دل جو خون روتا ہے
اس کو قرطاس پر چھڑکتا ہوں
گرجیں طوفان چار سو اپنے
تیری چُپ کے بھنور سے ڈرتا ہوں
آس آتی ہے چھوڑ جاتی ہے
روز ملتا ہوں اور بچھڑتا ہوں
پھر سے پینا تو خیر حسرت ہے
جام کے لمس کو ترستا ہوں
آپ تو میرا آئینہ ٹھہرے
آپ کی دید سے سنورتا ہوں
بیٹھا ہوتا ہوں ایک لمحے یاں
ایک پل میں وہاں پہنچتا ہوں
#حرفِ_راشد
Comments
Post a Comment