غزل 18
حوصلے کا اونچا پربت ریزہ ریزہ ہوچکا اب
دیکھ تیری بے رخی سے پارہ پارہ ہوچکا اب
شوقِ جلوہ میں ازل سے دل یے سلگا طُور جیسے
اک نظر کی جستجو میں جل کے سرمہ ہوچکا اب
میرے دل کی دھڑکنوں پر دستکیں ہیں رائیگانی
آرزوئے یار بس میرا تماشا ہوچکا اب
خواب میں دیکھا نہیں میں نے انھیں اک عمر بیتی
ان کو میری یاد آئے اک زمانہ ہوچکا اب
ہم کو بھی تھا خوف اپنی موت سے اے جانِ جاناں
عشق جیسا جاوداں اپنا شناسا ہوچکا اب
ہے جگر میں حوصلہ لکھتا چلوں میں داستانیں
کتنے ہی اوراق کا چھلنی کلیجہ ہوچکا اب
#حرفِ_راشد
Comments
Post a Comment