غزل۔ 20
پیڑ دیکھے ہیں جو صحرا میں لدے پھولوں سے
ایک امید سے پھر شعر کہے پھولوں سے
جب بھی دنیا نے کبھی راہ بھری کانٹوں سے
اک مسیحا نے مرے زخم سئے پھولوں سے
چار سُو میرے حکایات اڑیں خوشبو سی
خواب میں مجھ کو کئی لوگ ملے پھولوں سے
جو خزاؤں نے درختوں سے ہیں پتے نوچے
تو بہاروں نے نئے رنگ بھرے پھولوں سے
اس کی ہر بات مرے دل پہ لکھی دھڑکن سی
اس کے سب لفظ ترو تازہ کھِلے پھولوں سے
جو ہے دلدار مرے حال سے محرم راشد
تو ہیں دنیا کے ستم میرے لئے پھولوں سے
Comments
Post a Comment