سالگرہ
تیری سالگرہ ہے تو میں تحفہ کیا دوں
جو مرے خواب نما ہو، تمہیں جانِ وفا دوں
لمحہ لمحہ ہے مقروض تری الفت کا
گویا جادو سے کیا توڑ مری کلفت کا
میرے ہاتھوں میں رہا ہاتھ ترا دُکھ سُکھ میں
اک ہمدرد نظر آیا سدا پیارے مُکھ میں
میں نے جو دن کو کہا رات کہی تُو نے وہ
کوئی کہنے کو کہا بات کہی تُونے وہ
میرے ساتھی ہو ہمراز مرے ہمدم تُم
میرے ساجھی ہو غمخوار مرے دم خم تُم
دیکھو تم رہنا یونہی ساتھ ابد تک میرے
ایسے ہی تھامے رکھو ہاتھ ابد تک میرے
Comments
Post a Comment