غزل 22

دل سلگتا ہے جان جلتی ہے 
  آگ ہی جیسی آگہی بھی ہے 

روٹھنے میں ضرر  زیادہ ہے
اب تری بے رخی بھی دُگنی ہے

میری خوشیاں تری ہنسی میں ہیں
رنج میرا تری اداسی ہے 

مجھ کو انجان جاننے والو
عمر میں نے  یہیں گذاری ہے

ایک آتش فشان ہوتا تھا
یہ جو اب پرسکون وادی ہے

کب تلک ظلمتوں کے ڈیرے ہیں؟
صبح آنی ہے رات جانی ہے

کس نے اپنا قصور مانا ہے؟
کون کہتا ہے؟ میری غلطی ہے!

ہے یہ ممکن تجھے شفا بخشے
بات گو ذائقے میں کڑوی ہے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32