غزل 23

کسی نے دل کو یہاں ان کے نام کر ڈالا 
اُدھر انہوں نے فسانہ تمام کر ڈالا 

کئی تو وہ ہیں کہ جو بوند کو ترستے ہیں 
کسی کی پیاس نے دریا کو جام کر ڈالا

کوئی خیال ہے جو اوڑھنا بچھونا ہوا
کسی کے ذِکر کو آب اور طعام کر ڈالا

ہوا یہ جرم انہیں زندگی کہا ہم نے 
 سزا کے طور پہ جینا حرام کر ڈالا 

مرے نواح میں خاموشیوں کے ڈیرے تھے 
مرے وجود نے خود کو کلام کر ڈالا

لو ہم انہی کی طرح آگ سے گزر آئے
قبیلِ عاشقاں سا ہم نے کام کر ڈالا  

رواں دواں میں تو تھا جانبِ فنا راشد
کسی نگاہ نے مجھ کو دوام کر ڈالا

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32