غزل 24
مرتبے اونچے دیکھ آیا ہوں
قبروں کے کتبے دیکھ آیا ہوں
آئینے سے نظر چرا کر میں
ان گنت چہرے دیکھ آیا ہوں
اک تلاشِ معاش کی خاطر
مختلف خطے دیکھ آیا ہوں
خاک کے جسم کو سلا کر میں
خواب میں تارے دیکھ آیا ہوں
دوستی استوار کیسے ہو
دگردوں لہجے دیکھ آیا ہوں
پیچھے مڑ کے جو دیکھتا ہوں تو
دنگ ہوں کیسے دیکھ آیا ہوں
حکم ہے تو دوبارہ جاتا ہوں
رنگ میں سارے دیکھ آیا ہوں
دو گھڑی دم تو مجھ کو لینے دو
کتنی دُوری سے دیکھ آیا ہوں
Comments
Post a Comment