غزل 30

شام تو اک دھوکا ہے 
دن کہیں اور نکلا ہے 

چشمِ دل کی پلکوں میں 
یادوں کا اشک اٹکا ہے 

جتنا برتن خالی ہو 
اتنا ہی وہ بجتا ہے
 
آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں 
دل میں جو جو ہوتا ہے
 
جھٹ بدلتے لوگوں کو 
ہم نے اکثر دیکھا ہے
 
اپنے چہرے دِکھتے ہیں 
دنیا اک آئینہ ہے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32